وہ کشمیر کی رہنے والی سادہ سی لڑکی تھی مگر وہ بہت ہی زیادہ خوبصورت لڑکی تھی

ہ آزاد کشمیر کی سبز و شاداب وادیوں میں پلی تھی وہ ماحول و سادہ غذا نے عزت نفس اور حیاء کو اس کے رگ و ریشہ میں سمو دیا تھا ایک غریب گھرانے میں پرورش پانے والی ڈش اور کیبل کو کیا جانے اس نے تو اپنے گھر میں کبھی ٹیلی ویژن بھی نہ دیکھا تھا شاید یہی وجہ تھی کہ ہر نئے نرالے فیشن سے اسے چڑ تھی وہ سادہ دیہا تی لباس پہنتی سر پر دوپٹہ رکھتی والدین کی خدمت کرتی باوجود اس کے کہ وہ ایک عصری ادارے کی سٹوڈنٹ تھی لیکن شر م و حیاء کا گو یا پیکر تھی کی کیا عصری ادارے کا سٹوڈنٹ ہونا کوئی بے حیا ئی و فحاشی کی علا مت ہے نہیں تو ہر گز نہیں فنون حاصل کرنے سے کون منع کر تا ہے جتنے چاہو حاصل کرو علوم کی بجائے فنون کا لفظ میں نے جان بوجھ کر استعمال کیا ہے کیو نکہ علم تو وہی ہے۔

>

جسے اس ذات نے علم کہا ہے۔ کہ جس کے علم کے ساتھ اگر سارے عالم کے علم کا موازنہ کیا جا ئے تو ہیچ سے بھی اگر نچلے درجے کا کوئی لفظ میرے پاس ہوتا تو کہہ دیتا اور وہ ہے دین کا علم باقی تو سا رے ہیں ہی فنون ۔ آمنہ ان فنون پڑھنے والی لڑکیوں میں سے نہیں تھی جو حیاء و پاک دامنی کو خیر باد کر کے مغر بیت کو مشرقیت پر ترجیح دیتی ہیں جن کو دیکھ کر اکبر آلہ آبادی کی یہ ربا عی یاد آتی ہے۔ وہ صبح اٹھتی والدین کے لیے ناشتہ بناتی اس کے بعد نقاب میں منہ چھپائے اسکول کی طرف روانہ ہو جاتی اسکول سے واپسی پر تھوڑا بہت ٹائم ہوم ورک میں صرف کرنے کے بعد دوبارہ گھریلو کاموں میں مگن ہو جاتی یوں اس نے والدین کی خدمت کر نے کے ساتھ ساتھ میٹرک بھی کلیئر کر لی۔

میٹرک سے آ گے پڑھنے میں ایک تو خاندانی غیرت آڑے آ ئی دوسرا غربت و افلاس کی چکی میں پستا ہوا یہ گھرانہ اتنے اخراجات کب برداشت کر سکتا تھا۔ کہ فیسیں بھی بھرے اور ہاسٹل کے اخراجات بھی برداشت کرے آمنہ کے گھر کی حالت دن بدن نازک سے نازک ہوتی چلی جا رہی تھی گھر کے تمام تر اخراجات برداشت کرنے والا بوڑھا باپ پیرا نہ سالی کی بیماریوں اور کمزوریوں کو باعث موت و حیات کی کشمکش میں تھا عین ان حالات میں آمنہ کو ایک مغربی تنظیم کی طرف سے جاب کی آفر موصول ہوئی۔ آمنہ نے سو چا کہ چلو تھوڑے دن ملازمت اختیار کر لیتی ہوں جب حالات تھوڑے بہتر ہو جائیں گے تو چھوڑ دوں گی لیکن اس با چاری کو کیا پتہ تھا۔

کہ وہ ایک ایسی تاریک سر نگ میں داخل ہونے جا رہی ہے جس کا سراخ بے حمیتی اور عر یانی کے دروازے پر جا کر کھلے گا آمنہ نے ملازمت جوائن کر لی اور ڈیوٹی پر حاضر ہونا شروع کر دیا تقریباً ایک ہفتہ گزرا تھا کہ این جی او کا ایک اجلاس ہونا طے پا یا۔ چنانچہ جب آمنہ ڈیوٹی پر پہنچی تو اسے ایک تھیلا تھما دیا گیا کہ آج ہمارا چونکہ اجلاس ہے اور اس میں ہر کارکن کے لیے یو نیفارم ضروری ہے لہٰذا تم بھی یو نیوفارم پہن کر آ جاؤ۔ آمنہ نے تھیلا کھول کر جو دیکھا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اس نے ٹیبل کی طرف گھومتے ہوئے تھیل اس پر رکھ دیا اور بڑے بے با کا نہ انداز میں کہا کہ میں پینٹ شرٹ ہر گز نہیں پہنو ں گی۔

.

Sharing is caring!

Comments are closed.