نا پاک کپڑا جسم یا دوسرے کپڑے سے لگ جا ئے تو

ہ اگر نا پاک کپڑا جسم کو یا کپڑوں کو چھو جا ئے تو کیا جسم یا کپڑ ے نا پا ک ہو جا ئیں گے۔ اس سوال کے جواب سے پہلے میں یہاں پر ایک بات عرض کر نا چاہتی ہوں ایک بات کو لے کر گزارش کر نا چاہتی ہوں کہ میری ان با توں کو بہت ہی زیادہ سنجیدگی سے سنیے گا تا کہ ان باتوں کو لے کر جو بھی معلومات آپ کو ملیں وہ معلومات ان معلومات سے آپ بہت ہی زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔ یاد رکھیں کہ اگر نا پاک کپڑا خشک ہے تو دوسرے کپڑوں کے ساتھ لگنے سے نا پاک نہیں ہوں گے اور جسم کے ساتھ لگنے سے جسم بھی نا پاک نہیں ہو گا کیونکہ کپڑا خشک ہونے کی وجہ سے نا پاکی دوسرے کپڑوں یا جسم پر منتقل نہیں ہو رہی لیکن اگر جسم پر پسینہ ہے یا کپڑے گیلے ہیں یا ناپاک کپڑا گیلا ہے تو پھر تو نا پاکی منتقل ضرور ہوگی جس سے جسم اور دوسرے کپڑے ناپاک ہو جا ئیں گے یہاں پر ایک بات یا د رکھیں کہ جب بھی نا پاک کپڑوں کو پاک کپڑوں کے ساتھ واشنگ مشین میں یا بالٹی میں مت ڈالیں ورنہ سب کپڑے نا پاک ہو جا ئیں گے بہتر طریقہ یہ ہے کہ پہلے کپڑ ا پاک کر لیں پھر دوسرے کپڑوں کے ساتھ مشین میں ڈالا جا ئے یا نا پاک کپڑا الگ سے دھو یا جا ئے۔

>

اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے جو انسانی جسم کو سردی، گرمی اورماحول کی آلودگی سے بچاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے: اور تمہارےلئے کچھ پہناوے بنائے کہ تمہیں گرمی سے بچائیں۔اتنا لباس جس سے سترِ عورت ہوجائے اور گرمی سردی کی تکلیف سےبچے،فرض ہےاوراس سے زائدجس سے زینت مقصود ہواور یہ کہ جبکہ اﷲ نے دیا ہے تو اُس کی نعمت کا اظہار کیا جائے یہ مستحب ہے۔ خاص موقع پر مثلاً جمعہ یا عید کے دن عمدہ کپڑے پہننا مباح(جائز)ہے۔ اِس قسم کے کپڑے روز نہ پہنےکیونکہ ہوسکتا ہے کہ اِترانے لگے اورغریبوں کو جن کےپاس ایسے کپڑے نہیں ہیں نظرِحقارت سے دیکھے،لہٰذااس سے بچناہی چاہیے۔مرد کے لیے ناف کے نیچے سے گھٹنوں کے نیچے تک’’ عورَت ‘‘ہے، یعنی اس کا چھپانا فرض ہے۔ناف اس میں داخِل نہیں اور گھٹنے داخِل ہیں۔

عورت کا جسم سر سے پاؤں تک ستر ہے جس کا چھپانا ضروری ہے سِوائے چہرے اور کلائیوں تک ہاتھوں اور ٹخنے سے نیچے تک پاؤں کے ، کہ ان کا چھپانا نماز میں فرض نہیں، باقی حصّہ اگر کُھلا ہوگا تو نماز نہ ہوگی۔ لہٰذا اُسکا لباس ایسا ہونا چاہئے جو سرسے پاؤں تک اس کو ڈھکا رکھےاور اس قدر باریک کپڑا نہ پہنے جس سے سرکے بال یا پاؤں کی پنڈلیاں یا پیٹ اُوپر سے ننگا ہو۔ گھر میں اگر اکیلی یا شوہر یا ماں باپ کے سامنے ہو تو دوپٹہ اُتار سکتی ہے لیکن اگر داماد یا دوسرا قرابت دار ہو تو سر باقاعدہ ڈھکا ہوا ہونا ضروری ہے اور شوہر کے سوا جو بھی گھر میں آئے وہ آواز سے خبر کرکے آئے۔عورت کو لازم ہے کہ لباسِ فاخِرہ،عمدہ برقعہ اوڑھ کر نہ باہر جائے کہ بھڑک دار برقعہ پردہ نہیں بلکہ زینت ہے۔مرد عورتوں کا اور عورتیں مردوں کا لباس نہیں پہن سکتیں

کیونکہ ایسے مردوں اور عورتوں پر حدیثِ پاک میں لعنت بھیجی گئی ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَنے عورت کا لباس پہننے والے مرد اورمرد کا لباس پہننے والی عورت پرلعنت فرمائی ہے۔نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَاکثر سفید لباس زیبِ تن فرماتے۔ایک تحقیق کے مطابق سفیدلباس ہر قسم کے سخت موسمی تغیُّرات، کینسر، جلدی گلینڈز کے ورم، پسینے کے مسامات کی بندش اور پھپھوند کے امراض جیسی خطرناک اور تکلیف دہ بیماریوں سے حفاظت کرتا ہے ۔سنت یہ ہے کہ دامن کی لمبائی آدھی پنڈلی تک ہو اور آستین کی لمبائی زیادہ سے زیادہ انگلیوں کے پوروں تک اور چوڑائی ایک بالشت ہو ۔جو شخص کپڑا پہنے اور یہ پڑھے :اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ ھٰذَا وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِّنِّیْ وَلاَ قُوَّۃٍ،تو اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمی

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *