کیا ایسی چھوٹی لڑکی جس کو ابھی تک ح ی ض نہ آ یا ہو اس سے نکاح جائز ہے؟

ج کا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی چھوٹی لڑکی کا نکاح کر نا جائز ہے جسے ابھی تک ح ی ض نہیں آیا چلتے ہیں اس سوال کے جواب کی جانب اس سوال کا جواب ہے کہ ہاں ایسی چھوٹی لڑکی کا نکاح کر نا بالکل جائز ہے جسے ابھی ح ی ض نہ آیا ہو ارشادِ باری تعا لیٰ ہے اور وہ عورتیں جو ح ی ض سے مایوس ہو چکی ہیں۔ اگر تم شک کرتے ہو ان کی عدت تین ماہ ہے اور اسی طرح وہ عورتیں جنہیں ابھی ح ی ض نہیں آیا ان کی عدت بھی تین ماہ ہے اب اس آیتِ مبارکہ میں ان عورتوں کی عدت بیان کی گئی ہے۔

>

جنہیں ح ی ض آنا بند ہو چکا ہے یا ابھی تک ح ی ض آیا ہی نہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ ایسی عورت کا نکاح جائز ہے جسے ابھی ح ی ض آیا ہی نہیں۔ ہاں دوران ح ی ض میاں بیوی بوسو کنات کر سکتے ہیں اور جسم سے جسم ملا سکتے ہیں اور جب تک عورت ح ی ض سے فارغ ہونے کے بعد غسل نہ کر ے اس وقت تک قربت جائز نہیں اس لیے اللہ پاک نے دو شرطیں مقرر فرمائی ہیں ایک یہ کہ یہاں تک کہ ح ی ض سے پاک ہو جا ئیں اور دوسر ا یہ کہ پھر جب غسل کر لیں پھر اللہ نے وضاحت فر ما ئی ہے ح ی ض سے پاک ہونے اور غسل کر لینے کے بعد صرف وہاں پر قربت جائز ہے جہاں قربت کرنا اللہ پاک نے جائز قرار دیا ہے۔

اس کی مزید وضاحت یہ ہے کہ اللہ پاک نے عورت کو کھیتی سے تشبیہ دی ہے جس طرح کھیتی میں بیج ڈال کر پیداوار حاصل کی جاتی ہے اسی طرح عورت کے رح م میں جو ہرِ حیات ڈال کر اولاد حاصل کی جاتی ہے لہٰذا آدمی کو اختیار ہے کہ جس طرح چاہے قربت کر ے لیکن اس بات کو ذہن میں رکھے کہ صرف اولاد حاصل کرنے والی جگہ کو استعمال کر نا ہے پ ا خ ا ن ے والی جگہ کو استعمال نہیں کرنا۔ اللہ پاک ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فر ما ئے اور اس کے مطا بق ہمیں اپنی زندگیاں گزارنے کی بھی توفیق عطا فر ما ئے۔

جیسا کہ ہم سب لوگ ہی اس بات سے بہت ہی اچھے سے واقف ہیں کہ ہم اللہ پاک اور اس کے رسول سے اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے دین سے بہت ہی دور ہو چکے ہیں ہمیں پتہ ہی نہیں ہے کہ کیا چیز حلال ہے اور کیا چیز حرام ہے۔ تو ہمیں اسلام کے بارے میں تحقیق کر نی چاہیے اور اپنی روزمرہ زندگی سے متعلق جو بھی مسئلے مسائل ہیں انہیں اسلام کی روشنی میں ان کا حل تلاش کر نا چاہیے تا کہ ہماری زندگیاں آسان ہو سکیں

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *