جن کو نماز میں بہت غلط قسم کے خیالات یا وسوسے آتے ہیں

بہت ہی اہم اور مفید بات ۔جن کو نماز میں بہت غلط قسم کے خیالات یا وسوسے آتے ہیں اس بارے میں کیا حکم ہے ۔اس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے ۔یہ مسئلہ بہت سے لوگوں کو پیش آتا ہے کہ انہیں نماز پڑھتے ہوئے مختلف خیالات اور وسوسے آتے ہیں ۔

>

ایسے فرد کو کیا کرنا چاہئے ایسے فرد کو نماز کو مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ یاد کرنا چاہیے اور پڑھتے وقت اپنے دماغ میں اس کا ترجمہ رکھنا چاہیے کہ وہ نماز میں کیا پڑھ رہا ہے ۔اس سے آپ کا روجھان نواز کی طرف ہی رہے گا کہیں اور نہیں بھٹکے کا ۔

ایک صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اللہ کے رسول مجھے بہت وسوسے آتے ہیں نماز میں۔ میں کیا کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تمہیں وسوسے آئیں تو شیطان مردود سے پناہ مانگو اور اپنے بائیں کندھے کی جانب تین دفعہ تھوکے ۔

اعوذ باللہ من شیطان رجیم پڑھیں اور پھر تھوکے اور اس طرح ہر بار دوسری اور تیسری دفعہ بھی یہی کرے۔اس سے شیطان آپ سے دور ہو جائے گا کیوں کہ نماز میں وسوسے شیطان کی وجہ سے ہی آتے ہیں۔انشاء اللہ تبارک و تعالی آپ کو برے خیالات اور وسوسوں سے چھٹکارا حاصل ہو جائے گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *