ہنس ہنس کر پاگل نہ ہو گئے تو پھر کہنا ۔لازمی اس کہانی کو پڑھیے ۔کہانی ہے 20 سالہ لڑکی دکھا کر ستر سالہ بڑھیا کے ساتھ شادی کرکے بھیج دیا

نس ہنس کر پاگل نہ ہو گئے تو پھر کہنا ۔لازمی اس کہانی کو پڑھیے ۔کہانی ہے 20 سالہ لڑکی دکھا کر ستر سالہ بڑھیا کے ساتھ شادی کرکے بھیج دیا ۔بیس سالہ دلہا کی انوکھی بارات اور انوکھی کہانی ۔شاہد اور ستر سالہ ان کی بیوی ۔

>

جب یہ بارات لے کر نکلنے لگے تو ان کو لڑکی والوں کی طرف سے کال موصول ہوئی کہ ہمارے گھر فوتگی ہوگئی ہے آپ چار بندے لائیں اور اس کو رخصتی کر لیں ۔دھوم دھڑکے اور ڈھول بجانے کی ضرورت نہیں ہے ۔

جب شاہد صاحب اپنی دلہن کو لینے گئے تھے تو انہیں بیس سال کی دلہن دکھائی گی مگر ان کے ساتھ فراڈ ہوا اور ان کا نکاح ستر سالہ جنت بی بی سے کردیا گیا ۔ادھر ہی انہیں چائے میں نشہ ملا کر دے دیا گیا تھا

جس سے ان پر ہلکی ہلکی نیند طاری ہونا شروع ہوگئی تھی ۔جب برات لے کر گھر آئے تو اپنی بیوی کو کمرے میں لے کر گئے ۔نیند ایسے خاص و پر چھائی ہوئی تھی کہ دو تین گھنٹے کے لیے وہ سو گئے اور جب کچھ گھنٹے بعد اٹھ کر اپنے کمرے میں گئے اور بیوی کا گھونگٹ اٹھایا تو ان کا تراں نکل گیا ۔اب وہ سب کے ساتھ مل کر گاؤں میں نعرے لگاتا ہے بیس سال کی بڈھی واپس کرو ۔

اماں جی کو اپنی بیوی کی حیثیت سے دیکھ کر لڑکے کے سارے ارمان ٹھنڈے پڑ گئے ۔دل ہے کا کہنا ہے کہ مجھے دنیا میں ہی جنت مل گئی اور میری دلہن کے پیروں کے نیچے ہی جنت ہے۔

بلھا کہتا ہے میں نے ان کو ہاتھ نہیں لگایا اور اس کو ماں کے طور پر قبول کر لیا ہے ۔اماں جی کے ساتھ بھی دھوکا ہوا انہیں بھی گول مول باتیں کر آ کر ان سے نکاح نامے پر انگوٹھا لگایا گیا اور قبول کروایا گیا

۔اماں جی کا کہنا ہے کہ نکاح تو ہوگیا ہے لیکن میں دلہے کو اپنا بیٹا سمجھتی ہوں ۔دولہے کا عمران خان سے مطالبہ ہے کہ مجھے بیس سال کی بڈھی واپس کردیں ۔یا میرے سے فراڈ گھر کے جو ڈھائی لاکھ لے لیا گیا ہے مجھے وہ واپس کردیں ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *