بیوی کا ہر جگہ ساتھ اللہ کو پسند ہے

جب میاں بیوی کا نکاح ہو تو اللہ پاک چاہتے ہیں کہ اب ان کا ہر کام مشترک ہو ۔تہجد میں تنہائی اللہ پاک کو پسند ہے لیکن بیوی ہوتو تنہائی ہو یہ پسند نہیں ہے ۔حدیث میں آتا ہے اللہ اس شخص کو دیکھ کر ہنستے ہیں جو رات کو آخری حصے میں خود بھی اٹھتا ہے

>

اور اپنی بیوی کو اٹھاتا ہے وہ نا اٹھے تو غالبا پانی کے چھینٹے مار کے اس کو اٹھاتا ہے اور وہ دونوں ساتھ کھڑے ہو مسلح پر نماز پڑھتے ہیں عورت کی طرف بھی دیکھ کر اللہ پاک ہنستے ہیں ۔ہنسنے کا مطلب بہت زیادہ خوش ہوتے ہیں

۔بیوی تہجد کے لیے اٹھتی ہے اس کا میاں سویا ہوا ہے تو وہ اس کو بھی اٹھاتی ہے اگر نا اٹھے تو پانی کے چھینٹے مار کر اٹھاتی ہے پھر دونوں مسلحے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہیں ۔ تہجد میں تنہائی مقصود ہے لیکن اللہ پاک کہہ رہے ہیں

کہ یہاں بھی بیوی ساتھ ہونی چاہیئے ۔ قرآن میں آتا ہے قیامت کا دن ایسا وحشت والا دن ہو گا کہ انسان اپنے بھائی سے دور بھاگے گا ۔اپنی ماں سے بھی دور بھاگے گا ۔ اپنے باپ سے دور بھاگے گا ۔

اور اس سے جس کے ساتھ یہ رہا کرتا تھا ہر شخص اپنے آُپ کو بچائے گا کہ کہیں دوسرا نیکیاں نا مانگ لے ۔ اس میں بیوی کا ذکر نہیں ہے بلکہ کہا گیا ہے جس کے ساتھ وہ رہا کرتا تھا مطلب بیوی کو ہر وقت ساتھ رکھنا چاہیئے

حج پہ جاؤ تو اسے بھی ساتھ لے جاؤ،عمرے پر جاؤ تو اسے ساتھ لے جاؤ۔ صحابہ میدان جہاد میں بھی بیوی کو ساتھ لے کر جاتے تھے۔ تو کہیں تفریح پر جاؤ تو بیوی کو ساتھ لے جاؤ۔سفر میں انسان میں جو خواہشات پیدا ہوتی ہیں اس کے ناجائز کاموں کی طرف جانے کا امکان بڑھ جاتے ہیں

کیونکہ بیوی تو ساتھ ہوتی نہیں ہے تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ اپنے ملک میں انسان کو ڈر ہوتا ہے لیکن کسی اور ملک میں کوئی پوچھنے والا نا ہو تو زنا کے امکان بڑھ جاتے ہیں اس لیے بیو

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *