300بار اللہ کا یہ نام پڑھ لیں

ہم میں سے ایسے اکثر لوگ ہوتے ہیں جو کسی بھی کاروبار میں ہاتھ ڈالیں تو ان کو نقصان ہوتا ہے اگر بنا بنایا کام ہو تو وہ بھی ختم ہوجاتا ہے . گھر میں پریشانیاں ہوتی ہیں .

>

بیماریاں ہوتی ہیں جب دیکھوں کوئی نہ کوئی مسئلہ ان کے گھر میں چل رہا ہوتا ہے . خاندانی دشمنی بن جاتی ہے . ایسے تمام لوگ جن کو نوکری نہ ملتی ہو ، جھگڑے ہو گھر میں ، رشتہ نہ ہوتا ہے کاروبار میں نقصان ہو وہ دو رکعت نفل پڑھ کر اگر اللہ سےئ مانگے گے تو اللہ ان کی جھولی کو کبھی بھی خالی نہیں لٹائے گا اور انہیں مالا مال کر دے گاان کی تمام پریشانیاں ختم ہو جائے گی کاروبار میں برکت پیدا ہو گی .

نوکری نہیں ہے تو مل جائے گی . بس اللہ سے مانگے اور اس کے ساتھ اللہ کے مقدس نام کا خوب ذکر کریں جو کہ ذیل میں ہےاس کو روزانہ 300 بار پڑھے ..وتوکل علی اللہ و کفی با اللہ وکیلا بہت سارے نوجوان اور بزرگ سے واسطہ پرتا ہے . کہ عشا ء کی فرض نماز پڑھی اور دو سنتیں پڑھ کے گھر چلے جاتے ہیں.

سنتوں کے بعد وتر صرف اس وجہ سے نہیں ہے پڑھتے کہ دعا قنوت یاد نہیں ہے ہوتی یہ بہت ہی افسوس ناک بات ہے کہ دنیا داری کے جتنے بھی کام ہم ان کو سیکھتے ہیں جن سے ہمیں مطلب ہوتا ہے .لیکن بدقسمتی ہے نماز جو قبر میں سب سے پہلے کام آئے گی ہر چیز ساتھ چھوڑ دے گی سب سے پہلے نماز کام آئے گی اس کے لیے آج سیکھنے کے لیے ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہے .ایک شخص شکار کے لیے نِکلا۔

اُس نے دو سانپ دیکھے کہ:” آپس میں لڑ رہے ہیں۔ایک سفید ہے اور دوسرا سیاہ،اُس نے سیاہ کو مار ڈالا اور شکار کے لیے چلا گیا۔ ”اُسے ایک صاحبِ جمال عورت نظرآئی اور کہنے لگی:” میں وہی سانپ ہوں،تُو نےمیرے دُشمن کو مار ڈالا تُجھے اس کا عوِض مِلنا چاہیے۔پس میں اپنی بیٹی سے تیرا نِکاح کیے دیتی ہوں۔لیکن اُس کی کسی بات پر اعتراض نہ کرنا ورنہ، اگر تُو تین بار اعتراض کرے گا تو اُس پر تین طلاق پڑ جائیں گی۔

”خیر اُس نے نِکاح کِیا اور اُس سے ایک لڑکی ہوئی،ایک آگ آئی اور اُس عورت نے لڑکی کو آگ میں ڈال دیا۔ اُس شخص نے کہا:” تُو نے یہ کیوں کِیا؟ ”۔ وہ بولی:” ایک طلاق ہو گئی۔ ”پِھر اُس کے ہاں لڑکا پیدا ہُوا اور ایک کُتّا آیا، اُس عورت نے اُس بچّے کو کُتّے کو دے دیا۔پِھر اُس شخص نے کہا:” یہ کیوں کِیا؟ ”وہ بولی:”یہ دوسری طلاق ہو گئی۔

”پِھر اس کے کسی ساتھی نے اس کے پاس کُچھ کھانا بھیجا،اس عورت نے اس میں نجاست ڈال دی۔اُس شخص نے کہا:” یہ کیوں کِیا؟ ”وہ بولی:” تو یہ تیسری طلاق ہو گئی اور سُن! میں تُجھے اس کا راز بتلائے دیتی ہوں جس پر تُجھ سے صبر نہ ہو سکا۔آگ اور کُتّا یہ دونوں ہمارے بچوں کی پرورش کِیا کرتے ہیں اور اس کھانے میں زہر مِلا تھا۔ ”پِھر کُچھ مُدّت بعد وہ عورت مع اپنے لڑکے کے آئی اور یہ کہہ کر اسے لڑکی دی گئی۔

کہ:” یہ تیری لڑکی ہے۔ ”اور وہی لڑکی ” بلقیس ” تھیں جو حضرت سلیمان علیہ السّلام کی زوجہ بھی تھیں۔اسی وجہ سے جِنّوں نے حضرت سلیمان علیہ السّلام سے بلقیس کا نِکاح ناپسند کِیا تھا۔تاکہ اُن کے اسرار نہ بتائیں اورجو کُچھ اُن کا ماجرا ہُوا،وہ نیکی کرنے کی بدولت تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.