یہ بوڑھاکون ہے؟

السلام علیکم دوستو کیسے ہیں امید ہے کہ آپ سب ٹھیک ٹھاک ہوگے اور گھر میں خیر خیریت ہو گی۔ دو ستوں آج ہم آپ کو اسلامی قصہ سناتے ہیں کہ جس میں دو بڑی چیزوں کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے۔ اگر ہم کوشش کریں اور ان چیزوں سے باز آجائے تو انشاءاللہ ہماری دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گئی۔ جب حضرت نوحؑ اپنے امتیوں کو لے کر کشتی میں بیٹھے تو انہیں کشتی میں ایک بوڑھا نظر آیا اسے کوئی پہچانتا بھی نہیں تھا۔

>

آپؑ نے ہر چیز کا جوڑا جوڑا کشتی میں بٹھایا تھا، مگر وہ اکیلا تھا، لوگوں نے اسے پکڑ لیا۔ وہ حضرت نوحؑ سے پوچھنے لگے کہ یہ بوڑھا کون ہے؟ حضرت نوحؑ نے اس سے پوچھا، بتاؤ تم کون ہو؟ وہ کہنے لگا، جی میں شیطان ہوں۔ آپ نے سن کر فرمایا تو اتنا چالاک بدمعاش ہے کہ کشتی میں آ گیا۔ کہنے لگا، جی مجھ سے غلطی ہو گئی ہے، اب آپ مجھے معاف فرما دیں۔ آپؑ نے فرمایا تمہیں ہم ایسے ہی نہیں چھوڑیں گے تو ہمیں اپنا گر بتاتا جا، جس سے تو لوگوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ کہنے لگا جی میں سچ سچ بتاؤں گا البتہ آپ وعدہ کریں کہ آپ مجھے چھوڑ دیں گے۔ آپؑ نے فرمایا ٹھیک ہے، ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔ وہ کہنے لگا، میں دو باتوں سے انسان کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہوں، (1)حسد، (2) حرص۔ وہ پھر کہنے لگا کہ حسد ایک ایسی چیز ہے کہ میں خود اس کی وجہ سے برباد ہوا اور حرص وہ چیز ہے جس کی وجہ سے آدمؑ کو جنت سے زمین پر اتار دیا گیا۔ اس لیے میں انہی دو چیزوں کی وجہ سے انسانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہوں۔ واقعی دونوں چیزیں انتہائی خطرناک ہیں۔ انسان کو حسد اندر ہی اندر کھا جاتا ہے۔ اور حرص انسان کو اپنوں سے دور کر دیتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *