کیا تم اتار سکتی ہو اپنے کپڑے سب کے سامنے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اس نے سگریٹ کا ایک کش لگایا اور اپنی محبوبہ کی تصویر بٹوے سے نکال کر دوستوں کو دکھانے لگا اور بولا ۔۔۔!!چیک کر یار کیا کمال کا پیس ہے ۔۔! ہونٹ چیک کر یا ر کیسے ہیں ۔ بس ترے بھائی پر مرتی ہے ۔۔! ایک دوست بولا شادی کا ارادہ ہے؟تو وہ طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے اپنے دوستوں کو کہا۔ پاگل ہو گئے ہو کیا یہ تو ٹائم پاس ہے بس تھوڑا انجوائے کرونگا تھوڑا مستی کروں گا پھر اس کے بعد چھوڑ دوں گا۔

>

میں پاس گراؤنڈ میں ہی بیٹھا تھا۔ اب اس لڑکے کے باتیں مجھے تکلیف دینے لگے اور مجھ سے برداشت نہ ہو سکا۔ میں آٹھ کے ان کے قریب پہنچا اور کہا۔کیا تم یہاں سب کے سامنے اپنے کپڑے اتار سکتے ہو ؟ تو ایک دم غصے میں بولا کہ جناب آپ کا دماغ خراب ہے کیا ؟میں پاگل ہوں جو سب کے سامنے بے لباس ہو جاؤں۔ تو میں بولا کہ تم ایک لڑکی کو سب کے سامنے بے لباس کر رہے ہو ۔ اس کا صرف یہ قصور ہے کہ وہ تم سے محبت کر بیٹھی ہے یہ ٹھیک ہے کہ اس کی بھی غلطی ہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم اس کی عزت یوں سرعام دوستوں میں بیٹھ کر لوٹتے رہو۔ میں یہ کہہ کر وہاں سے پلٹ آیا اور گھر آتے ہوئے سوچتا رہا کہ ہم مرد کتنے عجیب ہوتے ہیں ۔۔ ۔عورت کی عزت اپنی نظر سے ہی لوٹ لیتے ہیں اور پھر بھی عورت کو قصور وار ٹھہراتے ہیں ، جس مرد کیلئے محبت صرف لباس اتارنے کا نام ہو تو اس کی نظر میں اس کی محبوبہ اور طوائف میں کوئی فرق نہیں اور ایسے مرد کبھی اچھے شوہر نہیں بن سکتے کیونکہ ۔۔۔! آپ بھی ذرا غور کیجئے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.