کمہار کی عدالت

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک بادشاہ نے گدھوں کو ایک قطار میں چلتے دیکھا تو کمہار سے پوچھا، “تم انہیں کس طرح سیدھا رکھتے ہو؟” تو کمہار نے جواب دیا کہ “جو بھی گدھا لائن توڑتا ہے، میں اسے سزا دیتا ہوں، بسی اسی خوف سے یہ سب سیدھا چلتے ہیں۔”بادشاہ نے کہا۔
“کیا تم ملک میں امن قائم کر سکتے ہو؟” کمہار نے حامی بھر لی، بادشاہ نے اسے منصب عطا کر دیا۔ پہلے ہی دن کمہار کے سامنے ایک چوری کا مقدمہ لایا گیا۔ کمہار نے فیصلہ سنایا کہ “چور کے ہاتھ کاٹ دو۔”جلاد نے وزیر کی طرف دیکھا اور کمہار کے کان میں بولا کہ “جناب یہ وزیر صاحب کا خاص آدمی ہے۔”کمہار نے دوبارہ کہا کہ “چور کے ہاتھ کاٹ دو۔”اس کے بعد خود وزیر نے کمہار کے کان میں سرگوشی کی کہ “جناب تھوڑا خیال کریں۔ یہ اپنا خاص آدمی ہے۔”کمہار بولا، “چور کے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں اور شفارشی کی زبان کاٹ دی جائے۔”اور کہتے ہیں کمہار کے صرف اس ایک فیصلے کے بعد پورے ملک میں امن قائم ہو گیا۔ہمارے ہاں بھی امن قائم ہو سکتا ہے مگر اس کے لئے چوروں کے ہاتھ کاٹنا پڑیں گے اور کچھ لوگوں کی زبانیں کاٹنا پڑیں گی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.