کسی کے کاپی پیسٹ نہ کریں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک مولانا صاحب جمعہ کے دن بے انتہا جذباتی تقریر کر رہے تھے۔ تقریر میں جذبات ہو کر مولانا صاحب نے کہا میرے زندگی کے خوبصورت اور سہانے شب و روز جس عورت کے بازو میں گزرے وہ عورت میری بیوی بالکل بھی نہیں تھی۔ حاضرین یک دم خاموش ہوگئے جیسے سانپ سونگ گیا ہوں۔ مولانا تجسوس ختم کرتے ہوئے کہا گھبرایئے نہیں وہ عورت میری ماں تھی۔
وہ عورت میری ماں تھی‘‘۔ایک صاحب کو یہ بات بہت پر لطف لگی، سوچا کیوں ناں گھر جا کر اپنی بیوی کو بھی اس لطف میں شامل کر لے۔سیدھا کچن میں گیا جہاں اس کی بیوی انڈے فرائی کر رہی تھی،۔۔۔۔۔ صاحب نے کہا ’’تم جانتی ہو میری زندگی کے سب سے سہانے سب سے سہانے شب و روز جس عورت کے بازوؤں میں گزرے وہ کم از کم تم نہیں تھی ‘‘۔چار دن کے بعد جب ان صاحب کے منہ سے پٹیاں اتاری گئیں اور تیل کی جلن کچھ کم ہوئی تو بولے۔’’کاپی پیسٹ سے گریز کرنا چاہیے‘‘ اور اس طرح کے ادھورے یا ڈبل میننگ والے جملے بلکل بھی بیوی کے سامنے نہیں بولنا چاہیے۔

>

Sharing is caring!

Comments are closed.