کسی کے دماغ میں داخل ہو کر اپنا پیار ڈالنے کا عمل!

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور دستہ ادب کو جھوڑ کر عرض کرنے لگا!یا علی میرے کوچھ دوست ہیں جو میرے بارے میں کچھ غلط سوچ رکھتے ہیں میں بار بار ان کی مدد کرنا چاہتا ہوں لیکن وہ لوگوں کی باتوں پر یقین کرکے مجھے ہی برا سمجھتے ہیں اب میں کیا کروں بس یہ کہنا تھا

>

کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کاش انسان تجھےیہ علم ہوتا کہ اللہ نے انسان کے وجود میں ایک ایسی طاقت رکھی ہے جس کے وسیلے سے وہ کسی کے بھی دماغ میں اپنی بات ڈال سکتا ہے

تو وہ حیرت سے پوچھنے لگا یا علی! ایسی کیا چیز ہے جس سے میں کسی کے بھی دماغ میں اپنی سوچ ڈال سکتا ہوں!بات جب یہاں تک پہنچی تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا انسان کے دماغ کا اختیار صرف انسان کے جسم پہ ہی نہیں بلکہ پوری کائنات پہ ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ انسان اپنی محدود زندگی اور اپنی خواہشات میں اپنے آپ کو اتنا مصروف رکھتا ہے

کہ وہ اس دماغ سے فائدہ اٹھانا نہیں جانتا تو اس نے کہا یا علی میں کیسے اپنے دوستوں کے دماغ میں اپنے لیے بھی سوچا لو بس یہ کہنا تھا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تم فجر کی نماز پڑھو اور اس کے بعد کھلے آسمان کے نیچے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے کچھ لمحات کیلئے پرسکون ہو جاؤ

جب نہ تمہارے ماضی کی یادیں نہ مستقبل کی فکر تمہارے دماغ میں ہو تو اس وقت تم اپنی آنکھیں بند کرکے اس کائنات کی حرکت کو محسوس کرو اور پھر اس کائنات کی خلقت کے بارے میں سوچنا چاہتے ہو اس کو غور و فکر کے ساتھ اپنے سامنے رکھیں اور پھر ہلکی آواز میں وہ کہو جو تم اس کے دماغ میں ڈالنا چاہتے ہو

جب یہ عمل کرو گے تو اس انسان کے وجود میں تمہارے لئے وہ سوچ پیدا ہوگی جو تم نے خود اس کے دماغ میں ڈالیں ہوگی اچھی بات دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور اسلام کو دوسروں تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں جزاک اللہ

اد رکھیے کہ کامیابی خطرات کے ساتھ لڑںے سے ہی ملتی ہے۔ اس راستے میں آپ کو قربانی دینا سیکھنا ہوگا

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *