کاروبار میں‌ ترقی کے لیے کونسا وظیفہ کرنا چاہیے؟

کاروبار میں مسلسل نقصان ہو رہا ہو تو ایسے کاروبار کو مسلسل فائدہ مند بنانے کیلئے کونسا وظیفہ ہے؟ مرحمت فر ما دیں۔

جواب:

کاروبار میں ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ حلال و حرام کی تمیز کی جائے۔ ناپ تول میں کمی نہ کی جائے۔ دھوکہ، فراڈ اور ملاوٹ نہ کی جائے۔

یعنی کاروبار کے حوالے سے اسلامی تعلیمات اور اصول و ضوابط سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے۔ اور مکمل دیانتداری سے کاروبار کریں۔ حلال اور حرام میں فرق کریں تو کاروبار میں ترقی بھی ہو گی اور برکت بھی ہو گی۔

اس کے علاوہ درج ذیل وظیفہ کو اپنا معمول بنا لیں جس سے اللہ تعالی وسعت رزق سے نوازے گا اور فقر و فاقہ سے محفوظ رکھے گا۔

اول و آخر 11 مرتبہ درود شریف پڑھ کر ’’یارزاق‘‘ کا ورد 100 مرتبہ کریں۔ اس وظیفہ کو حسب معمول 11 یا 40 دن یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رکھ سکتے ہیں۔

اس وظیفہ کے ساتھ ساتھ نماز کی پابندی کریں اور تلاوت قرآن کا معمول بنائیں اور بکثرت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجیں۔واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ ایک دن جوانی کے نشے میں ،میں نے سفر میں بڑی تیزی دکھائی اور تھک ہار کر رات کے وقت ایک ٹیلے کے دامن میں جا لیٹا۔ ایک بوڑھا ضعیف جو قافلے کے پیچھے پیچھے آرہا تھا،

کہنے لگا: بیٹھے کا ہے کو ہو، میاں یہ بھی کوئی سونے کی جگہ ہے۔ میں نے کہا چلوں تو کیسے، مجھ میں دم نہیں۔ بوڑھے نے کہا: کیا تم نے دانائوں کا قول نہیں سنا کہ آہستہ چلنا اور کبھی کبھار دم بھر کے لیے سستانا، بھاگنے اور تھک ہار کر بیٹھ جانے سے ہزار درجے بہتر… شیخ سعدیؒ فرماتے ہیںکہ ایک درویش کی بیوی حاملہ تھی اور وضع حمل کا وقت قریب آرہا تھا۔

اس بے چارے کے ہاں عمر بھر کوئی اولاد پیدا نہ ہوئی تھی۔ اس نے منت مانی کہ اگر خداوند تعالیٰ مجھے بیٹا عطا کرے ،تو میں اپنے تن کے ان کپڑوں کے علاوہ باقی سب کچھ اس کی راہ میں مسکینوں اورمحتاجوں کو دیدوں گا۔

اتفاق کی بات کہ اس کے ہاں بیٹا ہوا۔ اپنی منت کے مطابق اس نے خوان کرم بچھایا۔ میں مدتوں شام کی سرزمین میں گھومتا رہا۔ کئی سالوں کے بعد جب سفر سے واپس آیا، تو اس محلے سے گزر ہوا۔

میں نے لوگوں سے اس کا حال احوال پوچھا۔ کہنے لگے، وہ تو کوتوالی کی حوالات میں ہے۔ میں نے وجہ پوچھی، تو بتایا گیا کہ اس کے بیٹے نے شراب پی کر نشہ میں دُھت ہو کر خرمستی کی اور کسی کو موت کے گھاٹ اُتار کر خود بھاگ نکلا۔ اب اُس کی جگہ باپ کے پائوں میں بیڑیاں اور گلے میں طوق ہے۔ میں نے کہا اس بلا کو تو اُس نے دعائوں اور منتوں مرادوں سے پایا تھا

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *