پھنکار ۔۔۔ ایک شاندار تحریر

سبحان اللہ ۔۔۔ ایک بزرگ سے کسی سانپ نے بیعت کر لی تھی۔ انہوں نے اس سے یہ عہد لیا کہ کسی کو ڈھنگ نہیں مارنا جانوروں نے جو دیکھا کہ یہ کسی کو کچھ کہتا ہی نہیں ہے تو نڈر ہو کر سب نے اس سانپ کو مارنا اور تنگ کرنا شروع کر دیا۔

>

چند روز کے بعد وہ بزرگ کے پاس آیا۔ تو دیکھا بہت ہی بُری حالت میں ہے۔ پوچھا کیا حال ہے؟کہا آپ نے کاٹنےسے منع کر دیا تھا جانوروں کوجب یہ خبر ملی تو اب سب مجھے تنگ کرنے لگے ہیں۔فرمایا!’’میں نے کاٹنے سے ہی تو منع کیا ہے پھنکارنے سے تو منع نہیں کیا ہے، اب سے جوجانور آپ کے پاس آئے اور آپ کو تنگ کرنے کی کوشش کرے توآپ فوراً پھنکار دیا کرو کہ وہ بھاگ جائے۔ اس سانپ نے بزرگ کی اس بات پر عمل کیا جو بھی اُسے تنگ کرتا یا اُس کے پاس آتا تو وہ اُسے پھنکار مار کر بھگا دیتا اس روز سے اس غریب سانپ کو چین ملا اسی طرح بزرگوں کو بھی چاہئے کہ کبھی کبھی پھنکار دیا کریں تاکہ لوگ بلاوجہ زیادہ تنگ نہ کریں۔۔۔۔ یہ بھی پڑھیں۔۔۔ ایک جیولر کی مشہور دکان تھی اس کی بیوی خوبصورت اور نیک سیرت تھی ایک سقا ( پانی لانے والا)اس کے گھر تیس سال تک پانی لاتا رہا بہت بااعتماد شخص تھا ایک دن اسی سقا نے پانی ڈالنے کے بعد اس جیولر کی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر پیار سے دبایا اور چلا گیا۔ عورت بہت غمزدہ ہوئی کہ اتنی مدت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ۔

اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اسی دوران جیولر کھانا کھانے کے لئے گھر آیا تو اس نے اپنی بیوی کو روتے ہوئے دیکھا جیولر کے پوچھنے پر صورت حال کی خبر ہوئی تو جیولر کی آنکھوں میں آنسو آگئے بیوی نے پوچھا کیا ہوا ؟جیولر نے بتایا کہ آج ایک عورت زیور خریدنے آئی جب میں اسے زیور دینے لگا تو اس کا خوبصورت ہاتھ مجھے پسند آیا میں نے اس اجنبیہ کے ہاتھ کو پیار کے ساتھ دبایا یہ میرے اوپر قرض ہو گیا تھا لہٰذا سقے نے تمہارے ہاتھ کو دبا کر چکا دیا میں تمہارے سامنے سچی توبہ کر تا ہوں کہ آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گا ۔البتہ مجھے ضرور بتانا کہ سقا تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہے دوسرے دن سقا پانی ڈالنے کے لئے آیا تو اس نے جیولر کی بیوی سے کہا کہ میں بہت شرمندہ ہوں کل مجھے شیطان نے ورغلا کر بُرا کام کروا دیا میں نے سچی توبہ کرلی ہے آپ کو میں یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا عجیب بات ہے کہ جیولر نے غیر عورت کو ہاتھ لگانے سے توبہ کر لی تو غیر مردوں نے اس کی عورت کو ہاتھ لگا نے سے توبہ کر لی

Sharing is caring!

Comments are closed.