پرانے دور کا ایک بادشاہ اورمرغی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بچپن میں ایک لطیفہ پڑھا تھا ایک ظالم حکمران تھا اس کو مرغیاں پالنے کا شوق تھا۔ یوں سمجھیں اس ملک کی کمائی کا ایک ذریعہ معاش مرغی کے انڈوں سے حاصل ہوتا تھا۔ دیگر ٹیکس کی وصولیاں بھی کسادبازاری اور مندی کا شکار ہوچکی تھی۔ وزیروں نے مشورہ دیا کہ ۔ہم نے عوام سے جتنا نچوڑنا تھا نچوڑ کر سرکاری خرانے میں جمع کرا دیا ہے۔
اب آپ باقی مرغیوں سے وصول کرلیں۔ وہ حکمران اپنی بندوق لے کر مرغیوں کے فارم میں گھس گیا اور حکم دیا کہ جو مرغی کل سے ایک کے بجائے 2 انڈے نہ دے اسے کاٹ ڈالا جائے۔ دوسرے دن تمام مرغیوں نے2دو انڈے دئیے ، صرف ایک مرغی کے نیچے سے ایک انڈا نکلا ، اس نے اس مرغی کو کاٹنے کا حکم دیا تو مرغی نے کہا میری مجبوری تو سن لیں پھر بے شک اگر میں قصوروار ہوں تو مجھے کاٹ دیا جائے۔ بادشاہ نے وزیر کو رکنے کا حکم دیا اور مرغی سے مجبوری پوچھی تو اس نے کہا بادشاہ سلامت آپ کے ڈر اور خوف سےبہت کوشش بعد صرف ایک ہی انڈہ دے سکا ویسے میں مرغا ہوں۔ تو کم و بیش ایسی صورتحال ابھی بھی ہے۔ جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے عوام ایسی ہی مصیبتوں سے گزر رہے ہیں۔ آج ہی ہمارے وزیراعظم عمران خان کی زبانی معلوم ہوا کہ پاکستان 30ہزار ارب کا مقروض ملک کا نام ہے۔ ماضی کے جمہوریت پر یقین رکھنے والے حکمران اس ملک کو گروی رکھ کر عوام کو مقروض چھوڑ گئے ہیں۔ اب روزانہ کی مد میں6 ارب روپے صرف سود کی رقم ادا کی جارہی ہے۔

اور چند دن قبل والے منی بجٹ کے بعد اب گیس کے دام بڑھانے ناگزیر ہوچکے تھے اور بقول ہمارے وزیر ریلوے شیخ رشید آئی ایم ایف کے پاس بھی ہم مجبوری کی وجہ سے قرضہ لینے گئے ہیں۔ ہم نے ریلوے کے محکمے کو بھی ماڈرن شکل دینی ہے اور کراچی سے پختونخوا تک ڈبل ریلوے پٹریاں بچھانی ہیں۔ عوام کو جتنی تبدیلوں کا وعدہ کیا تھا اس میں سب سے بُری بات آئی ایم ایف سے قرضے لینے والوں کے متعلق کہی گئی تھی۔ دھرنے کی صدائیں ایک ایک کرکے پھیکی پڑچکی ہیں۔ امداد، قرضے، نقدی، پیٹرول، گیس ملنے کی اربوں ڈالر کی وصولیابی کے باوجود سارا بوجھ صرف عوام پر ڈالا جا رہا ہے ۔ سب ٹھیک ہورہا ہے اور ٹھیک ہوجائے گا کی صدائیں ،تبدیلی آرہی ہے اور تبدیلی آچکی ہے کے نعروں میں ڈھل رہی ہے۔ کرپشن کرپشن اب ڈیل ڈھیل میں ابھرتی نظر آرہی ہے۔ دونوں جانب یہ جملہ کہ این آر او ہر گز نہیں بھی مشکوک ہوتا جا رہا ہے۔ مارکیٹ میں شریفوں، زرداری اور بحریہ ٹائون والوں سے اربوں کی ڈیل کا شوشہ چھوڑا ہوا ہے۔ قوم کو انکروچمنٹ، ہائی رائز عمارتوں، غیرقانونی شادی ہالوں میں الجھایا ہوا ہے۔ کرپٹ حکمرانوں کے احتساب کیلئے نیب کی کارروائیوں سے میڈیا کو پیچھے لگا کر سطانی گواہوں کی تلاش جاری ہے۔

بیوروکریٹس ٹکٹکی باند ھے سارا تماشہ دیکھ رہے ہیں ہر صبح 2 چار نئے نام شامل کرکے بازار گرما کی بے حسی بڑھائی جارہی ہے۔ سی پیک معاہدے میں دراڑیں ڈال کر شقیں بڑھانے کی نوید دی جارہی ہے۔ اگر چہ یہ سب کچھ کیا دھرا ماضی کے حکمرانوں کا ہے۔ پھر لنگڑی لولی جے آئی ٹی اور تفتیش اندھے قانون کی طرف رواں دواں ہے، کیا کوئی کرپشن کی رسیدیں یا ثبوت چھوڑ کر جاتا ہےجہاں بیوروکریٹ بھی سیاستدانوں کا سانجھا رہا ہو۔ چین والوں سے جب ان کی ترقی کا راز پوچھا گیا توانہوں نے بتایا کہ ہم نے صرف 300کرپٹ سیاستدانوں بیوروکریٹس کو گولیوں سے اڑا دیا اور ہمارے ملک سے کرپشن ختم اور ترقی کے دروازے کھل گئے۔ ایک پل گر گیا تھا ہم نے اس کے انجینئرز اور ٹھیکیداروں کو سزائے موت دے دی پھر کوئی بلڈنگ یا پل آج تک نہیں گرا۔ بدقسمتی سے ہمارے قوانین بنانے والے وہی حکمران آج تک آتے اور جاتے رہے جو کرپشن میں پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔ عوام پر مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے والوں سے پوچھیں یہ کھربوں پتی سیا ستدانوں اور حکمرانوں کے گوشوارے آپ کے پاس جمع ہیں خود کتنا ٹیکس ادا کیا ہے ۔پہلے اربوں روپے سالانہ تنخواہیں مراعات وصول کرنے کے بعد نئی 33قائمہ کمیٹیوں کے چیئر مینوں کو اضافی تنخواہیں مراعات نئی 1800 سی سی گاڑیاں انکا 400لیٹر پٹرول، مفت ہوائی سفر ،مفت ڈرائیور۔

کیا بجلی گیس کیلئے صرف عوام ہی رہ گئے ہیں۔وزیراعظم ہائوس خالی مگر اس کے ملازمین معہ رہائش وہی مقیم ہیں۔ قصر صدارت سے کتنے ملازمین فارغ کئے گئے ہمارے گورنروں کی قطاریں کیا گاڑیوں کے بغیر ہوئیں ۔اب آخری امیدیں نئے حکمرانوںنے برادر ملک سے لگائی ہیں ۔ہمارے کانوںمیں وہ آوازیں بھی گونج رہی ہیں کہ بھیک دینے والے حکمرانوں کی نگاہ میں بھیک لینے والوں کا کوئی مقام نہیں ہوتا ۔ آج اسلام آباد کے راستوں کی صفائی ،ہوٹلوں میں بکنگ ،ریڈ کارپٹ استقبال کی تیاریاں کچھ بھی تو مختلف نہیں ہورہا ہے۔بس شریف اور زرداری نہیں ہیں کیا تبدیلی آئی ہے ۔دکھ اور رنج سے میرا قلم بوجھل ہوتا جا رہا ہے جو کام ماضی کے حکمران 5سال میں طے کرتے تھے پی ٹی آئی حکومت نے صرف آدھے سال میں مکمل کر لئے ہیں۔ ظاہر ہے 30ہزارارب روپے کا خمار ہے کیسے اترے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ 30ہزار ارب روپے قرض چڑھانے والے ابھی تک اس ملک میں بہ نفس نفیس موجود ہیں اور اپنی اپنی صفائیاں اور مظلومیت کی داستان سنا رہے ہیں اور مظلوم عوام کی ہمدردیاں بھی سمیٹ رہے ہیں اور وہ کالم نگار بھی اس کی گواہیاں دے رہے ہیں جن کے چولہے ٹھنڈے ہوتے جارہے ہیں

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *