پاکستان میں اب بھی یہودی بستے ہیں ، مگر یہ اپنی اصلیت چھپا کر کس حلیے میں باہر نکلتے ہیں ؟ ایک یہودی کے انٹرویو سے حیران کن اقتباس

بریکنگ نیوز: احتساب کا سونامی بپھر گیا ۔۔۔۔ صبح صبح نامور پاکستانی سیاستدان کے بیٹوں کی گرفتاری کی خبر آگئ

آجائیں اور حکومت سنبھالیں۔۔!! سیاسی بحران پیدا ہوتے ہی اسٹیبشلمنٹ نواز شریف کو کیا آفر کرنے والی ہے؟ عمران خان کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئ

عام تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ، نوٹیفیکیشن جاری
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان نے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اس کی بنیادی وجہ مسئلہ فلسطین ہے جبکہ چھوٹی سی یہودی برادی کے رکن کا ایک غیر معمولی انٹریو میں کہنا ہے کہ وہ پاکستانی صیہونی ہیں۔ فیشل خالد، جنہوں نے گزشتہ سال تاریخ رقم کی جب پاکستانی حکومت نے انہیں اسرائیل جانے کی اجازت دی۔

اس کا کہنا ہے کہ وہ ’جوڑی دار اقوام‘ اسرائیل اور پاکستان کے درمیان اچھے تعلقات دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں فیشل کا کہنا تھا کہ وہ 99 فیصد افراد کو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے جن سے ان کا ملنا جلنا ہوتا ہے۔ اور جب وہ صیہونیوں کی چھوٹی سی گول ٹوپی پہنتے ہیں تو وہ اسے بیس بال کی ٹوپی کے نیچے چھپا لیتے ہیں۔ خالد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یہودی مخالف مختلف درجے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں کنیسہ (یہودیوں کی عبادت گاہ) کو بدامنی کے دنوں میں نذرآتش کردیا گیا تھا جو 1948 میں اسرائیل بننے کے بعد پھوٹ پڑ ےتھے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق اگست کے مہینے میں پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں 29 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سرپلس ریکارڈ کیا گیا جہاں گزشتہ سال اسی عرصے میں 60 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جولائی میں 50 کروڑ 8 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں 71 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے جن کو پہلے بتائے گئے اعدادوشمار 42 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سے بڑھا دیا گیا ہے۔جولائی سے اگست تک مجموعی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 80 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جہاں مالی سال 20 کے اسی عرصے میں ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کا خسارہ ہوا تھانئے مالی سال میں لگاتار دوسرے کرنٹ اکاؤنٹ اضافے کے ساتھ ایسا لگتا ہے کہ ملک نے اپنے بیرونی محاذ کو بہتر بنایا ہے جسے مالی سال 2018 میں 20 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *