پاکستانی جوان لڑکیوں اور لڑکوں نے کاروں میں بیٹھتے ہی کون سا شرمناک کام شروع کر دیا؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ہمارے معاشرے میں دن بدن اخلاقی گراوٹ اور بے حیائی کا ایک طوفان ہے۔ جو ہر جگہ تیزی سے پھیلتے جا رہا ہے۔ اور اب تو حالات اتنے بدتر ہو گئے کہ اب ٹیکسی ڈرائیور کے سامنے ہیں غیر اخلاقی حرکتیں شروع کر دیں گئی ہے۔ اب کچھ ایسی ہی حرکتیں ” کریم ،اوبر” ٹیکسی سروسز میں شروع ہوگئی ہے۔ ان لڑکوں اور لڑکیوں کو شرم نہیں آتی جس کی وجہ سے ڈرائیور بھی احتجاج پر مجبور ہو گئے ہیں۔

>

ایسا ہی ایک انتہائی شرمناک کام کریم اور اوبر کی کاروں کی پچھلی سیٹوں پر ہونا شروع ہو گیا ہے جس کے باعث ڈرائیور بھی ’پھٹ‘ پڑے ہیں اور انہوں نے کمپنیوں سے کئے گئے اپنے درجنوں مطالبات میں ایک ایسا مطالبہ بھی شامل کیا ہے کہ پاکستانی والدین کے پیروں تلے زمین ہی نکل جائے گی۔ ایک روز قبل کریم اور اوبر ڈرائیورز نے احتجاج کرتے ہوئے اپنی کمپنیوں سے کچھ مطالبات کئے جن کا تعلق ان کی اپنی ذات سے ہیں اور منافع سے ہیں ۔ ان مطالبات میں ’کسٹمر کی جانب سے شکایت اگر کیجائے تو ڈرائیور کو موقع پر صفائی پیش کرنے کا اختیار دیا جائے ۔ ایسے ہی زیادہ سے زیادہ 4 سواریوں کی گنجائش کے متعلق بھی کہا گیا ۔لیکن ڈرائیورز نے ایک عجیب مطالبہ بھی کر ڈالا کہ ”کمپنی کی گاڑیو ں میں اکثر جوان لڑکے لڑکیاں غیر اخلاقی حرکتیں کرتے ہیں ان کو منع کرنے اور روکنے کے لئے لڑکے کو اگلے سیٹ پر بٹھانے کی بھی اجازت دی جائے ۔ واضح رہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنا بچوں پر کھڑا نظر رکھے۔ ایسا نہ ہو کہ کل وہ کوئی ایسی حرکت کرے کہ جس کی وجہ سے ہمیں پوری عمر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.