پاکستانیوں تمھارا جواب نہیں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کہا جاتا ہے کہ دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جو کام پیسوں کے لیے نہیں بلکہ اپنے شوق کو پایا تکمیل کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی جب کسی چیز میں پیسہ نہ ہو اور صرف شوق ہو تو وہ انسان پر بھاری پڑ جاتا ہے سنا ہے۔ کہ امریکا میں ایک حجام تھا۔

انوکھی بات یہ تھی کہ وہ اپنے گاہکوں سے پیسے بالکل نہ لیتا تھا اور کہتا کہ میں اپنے شوق کی تکمیل کے ساتھ ساتھ خدمت خلق کر رہا ہوں‘ایک شخص نے بال کٹوائے شیو بنوائی جب اجرت پوچھی تو حسب معمول حجام نے کہا۔کہ بھائی میرے لئے دعا کر دینا۔ اس شخص کی پھولوں اور گفٹ کی دکان تھی۔اگلے دن جب صبح حجام دکان پر پہنچا تو وہاں پر پھول گفٹ اور وش کارڈ آویزاں تھے۔ اس نے خوش دلی سے وہ لے لئے۔ پھر ایک شخص جس کی کتابوں کی دکان تھی اس نے حجام سے بال کٹوائے اور اگلےدن اپنی خوشی سے چند عمدہ کتابیں پیک کر کے بھجوا دیں۔ اسی طرح ایک شخص کی گارمنٹس کی دکان تھی اس نے چند شرٹس اور ٹائی بھجوا دیں۔ پھر ایک دن ایک پاکستانی وہاں چلا گیا۔ پاکستانی نے بال کٹوائے شیو بنوائی‘ غسل کیا اور اجرت پوچھی تو حسب معمول حجام نے اُجرت نہ لی۔ اب اگلی صبح جب حجام اپنی دکان پر پہنچا تو اس نے بھلا کیا دیکھا؟ ایک پاکستانی بن کر سوچئے اور اندازہ لگائیے‘جی ہاں وہاں 50 کے قریب پاکستانی اس انتظار میں بیٹھے تھے کہ کب یہ دکان کھلے اور وہ سب مفت میں بال و شیو بنوائیں۔ واضح رہے کہ کچھ قصے عارضی ہوتے ہیں لیکن لیکن اس کی پیچھے ایک بڑی حقیقت چوپی ہوتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.