ویاگرا کا وہ فائدہ سامنے آگیا جو آج تک سائنسدانوں کو بھی نہیں پتہ تھا۔۔۔ تفصیلات جان کر آپ بھی استعمال شروع کر دیں گے

آج کے اس دور میں ہر کسی کو پتہ ہے کہ ویاگرا اور جنسی قوت کی دیگر ادویات کس چیز کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔ لیکن اس کے کچھ خاص مخصوص معلومات کے بارے میں تو ہر کسی کو پتہ تھا۔ لیکن یہ پتا نہیں تھا کہ یہ اور کتنا فائدہ مند ہے ویاگرا اور جنسی قوت کی دیگر ادویات کے بارے میں یہ تو معلوم تھا۔ کہ اس سے دوران خون میں بہتری آتی ہے لیکن اب اس کا ایک اور ایسا فائدہ سامنے آ گیا ہے جس کا آج تک سائنسدانوں کو بھی پتا نہیں تھا۔ میل آن لائن کے مطابق سویڈن کی ’لُنڈ یونیورسٹی‘ کے ماہرین کی اس نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ ویاگرا اور جنسی قوت کی دیگر گولیاں انسان کو ’کولون کینسر‘ سے بھی محفوظ رہنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان گولیوں میں اینٹی انفلیمیٹری اور اینٹی ٹیومر خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں انسان کولون کینسر سے محفوظ رہتا ہے۔ پورٹ کے مطابق اس تحقیق میں سائنسدانوں نے کولون کینسر کے کچھ مریضوں پر تجربات کیے جن میں سے کچھ مرد جنسی قوت کی گولیاں کھاتے تھے۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ جو مرد یہ گولیاں کھاتے تھے ان پر کولون کینسر کی ادویات زیادہ اثر کر رہی تھیں۔ اور ان کے صحت مند ہونے کے امکانات دوسروں کی نسبت کئی گنا زیادہ تھے۔ کولون کینسر کے جو مریض جنسی قوت کی گولیاں کھاتے تھے۔ ان میں کینسر سے شرح موت 10فیصد جبکہ دوسرے گروپ میں شرح موت 17.5فیصد دیکھی گئی۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر ووشیانگ ہوانگ کا کہنا تھا۔ کہ جنسی قوت کی یہ گولیاں کولون سمیت کینسر کی دیگر اقسام کے خلاف بھی مزاحمت رکھتی ہیں۔ جو مرد یہ گولیاں کھاتے ہیں۔ ان کے کینسر سے مرنے کا خطرہ 20فیصد اور سٹیج فور سے مرنے کا خطرہ 15فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ ان میں کینسر سے شرح موت 10فیصد جبکہ دوسرے گروپ میں شرح موت 17.5فیصد دیکھی گئی۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر ووشیانگ ہوانگ کا کہنا تھا کہ جنسی قوت کی یہ گولیاں کولون سمیت کینسر کی دیگر اقسام کے خلاف بھی مزاحمت رکھتی ہیں۔ جو مرد یہ گولیاں کھاتے ہیں ان کے کینسر سے مرنے کا خطرہ 20فیصد اور سٹیج فور سے مرنے کا خطرہ 15فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ ہم امید کرتے ہے کہ صحت کے بارے میں معلومات آپ کو ضرور پسند آئی ہوگی۔ مزید اچھی تحریروں کے لئے ہمارے پیج کو فالو اور لائک ضرور کریں شکریہ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.