وہ پھل جس کے کھانے سے چالیس مردوں کے برابر طاقت ملتی ہے

آج کل انسان جسم اور دل کو تقویت دینے کیلئے مختلف قسم ادویات استعمال کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ان کو وہ تقویت نہیں ملتی جو وہ چاہتے ہیں۔ اللہ تعالی نے قدرتی چیزوں میں وہ طاقت رکھی ہے جو کہ ہمیں ادویات میں نہیں ملتی۔ آج ہم آپ کو ایک ایسے پھل کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں کہ جس کی کھانے سے آپ میں 40 مردوں کی برابر طاقت آ سکتی ہیں۔

اس پھل کا نام ‘بہی’ ہے۔ یہ پھل شکل و صورت میں سیب اور آڑو کی طرح لگتا ہے۔ اس پھل کے بارے میں کئی جگہوں پر ذکر بھی ہوا ہے۔ اس کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے اگر یہ خواتین کھاے تو ان کے ہاں خوبصورت بچے پیدا ہوتے ہیں اور اگر مرد کھاے تو ان میں 40 مردوں کی برابر طاقت آئے گا۔ بہی کے پھل میں کئیطرح کے وٹامن اور معدنیا ت شامل ہیں۔ بہی کا مربہ اس حوالےسے بہترین غذا ہے جو نہار منہ کھایا جائے تو دل کے عوارض سے بھی بچاتا ہے۔حٖضرت طلحٰہ رضی اللہ عنہ بن عبید اللہ روایت فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ اس وقت اپنے اصحاب کی مجلس میں تھے۔ ان کے ہاتھ میں بہی تھا جس سے وہ کھیل رہے تھے۔ جب مجلس میں بیٹھ گیا تو انہوں نے اسے میری طرف کر کے فرمایا۔ “اے ابا ذر!یہ دل کو طاقت دیتا ہے سانس کو خوشبودار بناتا ہے اور سینہ سے بوجھ کو اتار دیتا ہے۔”حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “بہی کھاؤ کیونکہ وہ دل کے دورے کو ٹھیک کر کے سینہ سے بوجھ اتار دیتا ہے۔ ”حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک روایت فرماتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “بہی کھانے سے دل پر سے بوجھ اتر جاتا ہے۔

”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہی کھاؤ کہ دل کے دورے کو دور کرتاہے۔اللہ نے ایسا کوئی نبی نہیں مامور فرمایا جسے جنت کا بہی نہ کھلایا ہو کیونکہ یہ فرد کی قوت کو چالیس افراد کے برابر کر دیتا ہے”۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اپنی حاملہ عورتوں کو بہی کھلایا کرو کیونکہ یہ دل کی بیماریوں کو ٹھیک کرتا ہے اور لڑکے کو حسین بناتا ہے”۔حضرت عوف رضی اللہ عنہ بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہی کھاؤ کہ یہ دل کے دورے کو ٹھیک کرتا اور دل کو مضبوط کرتا ہے”۔بہی کو نہار مُنہ کھانا چاہیٔے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالی نے ہر قدرتی چیز میں خصوصی ترقی ہوئی ہے۔ اور قدرتی چیز کھانے سے توانائی آتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *