وہ وقت جب بادشاہ سے لوگوں کی عزت محفوظ نہیں تھی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) طبرستان میں ایک ظالم بادشاہ تھا۔ شہر کی دو شیزہ لڑکیوں کی آبروریزی کرتا تھا ۔ ایک مرتبہ ایک بڑھیا حضرت شیخ ابو سعید قصاب علیہ الرحمۃ کی خدمت میں گریہ وزاری کرتی ہوئی آئی اور فریاد کی کہ : حضور میری دستگیری فرمائیں بادشاہ نے مجھے کہلوایا ہے۔

کہ آج وہ میری بیٹی کی عزت لوٹنے والا ہے ۔ یہ منحوس خبر سن کر آپ کی خدمت میں بھاگ آئی ہوں کہ شاید آپ کی دعا سے اس بلا کو ٹالا جاسکے شیخ ابوسعید قصابؒ نے ضعیفہ کی بات سن کر کچھ دیر کے لیے سر جھکائے رکھا۔ اس کے بعد سر اٹھا کر فرمایا: بوڑھی ماں زندہ لوگوں کے اندر تو ایسا کوئی مستجاب الدعوات نہیں رہا تو فلاں قبرستان جا وہاں تجھے ایسا ایسا شخص ملے گا۔ وہ تیری حاجت پوری کرے گا۔ وہ ضعیفہ قبرستان میں پہنچی تو وہاں ایک شکیل ور عنا کے لباس سے خوشبوں کے فوارے ابل رہے تھے۔ ضعیفہ نے اسے سلام کیا اور جواب کے بعد نوجوان نے ضعیفہ کے احوال پوچھے۔ اس نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ نوجوان نے ضعیفہ کی پوری بات غور سے سننے کے بعد اس سے کہا: تو پھر شیخ ابوسعید کی خدمت میں جا اور ان سے دعا کے لیے کہہ۔ ان کی دعا قبول ہوگی ضعیفہ نے جھنجھلا کر کہا: عجیب بات ہے زندہ مجھے مردوں کے پاس بھیجتا ہے اور اب مردہ مجھے پھر زندہ کے پاس لوٹاتا ہے۔ اور ان چکروں میں میری حاجت روائی کوئی نہیں کرتا تو بتاؤ بھلا اب میں کہاں جاؤں؟

نوجوان نے پھر ضعیفہ سے کہا تو شیخ ابوسعید کی خدمت میں جا ان کی دعا سے تیرا مقصد پورا ہو جائے گا ضعیفہ پھر شیخ ابوسعیدؒ کے پاس آئی اور سارا واقعہ عرض کیا شیخ ابوسعید نے سرجھکایا اور ان کا جسم پسینہ سے شرابور ہو گیا پر ایک چیخ ماری اور منہ کے بل گر پڑھے اسی لمحہ شہر میں شور و ہنگامہ کی آواز بلند ہوئی لوگ کہہ رہے تھے بادشاہ فلاح ضعیفہ کی بیٹی کی آبرو ریزی کی نیت سے جا رہا تھا راستہ میں اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ گھوڑے سے گرا تو اس کی گردن ٹوٹ گئی اور فوراَ مرگیا۔ اس طرح شیخ کی دعا سے اہل شہر سے یہ بلا ٹل گئی بعد میں لوگوں نے شیخ ابوسعید سے دریافت کیا کہ آپ نے ضعیفہ کو قبرستان کیوں بھیجا اور پہلے ہی آپ نے دعا کیوں نہ فرما دی؟ شیخ نے کہا میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں کہ میری دعا سے وہ ہلاک ہو اس لئے میں نے بڑھیا کو حضرت خضر علیہ السلام کے پاس بھیجا انہوں نے اسے پھر میرے پاس بھیجا کہ ایسے پلید انسان کے لیے بد دعا کرنا جائز ہے۔ سبحان یہ تھی فضیلت ان نیک لوگوں کی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *