وہاں سے بھاگنے کے بعد میں انتہائی خوفزدہ حالت میں دن چپ کر گزارتی اور رات کو اللہ کا نام لے

نکاح کی تقریب جاری تھی ۔ نکاح حواں نے دلہے سے اس کا نام پوچھ کر لکھا۔ پھر اس کے والد کا نام پوچھا۔ دلہا اس سوال کے گھبرا گیا۔ اور کہا کے میں نے اپنے والدہ سے اپنے والد کا نام پوچھا ہی نہیں میں پوچھ کر اتا ہو۔ محفل میں موجود لوگوں میں سے کسی کو بھی اس کے والد کا نام معلوم نہ تھا۔دولہا اٹھا اور اپنے گھر کی طرف گیا۔

>

گھر میں داخل ہوتے ہی اس نے اپنی والدہ سے اپنے والد کا نام پوچھا والدہ بھی گھبرا گئی اور گم سم ہو گئی۔ دلہا نے کئی بار اپنی والدہ سے پوچھا اور آخرکار شدید طیش میں آگیا اور نہ جانے کیا کیا اول فول بکتا رہا۔ گھر میں جمع تمام عورتے خاموشی سے ماں بیٹے کا مکالمہ سن رہی تھی۔ اور حیران تھیں کہ یہ خیال ہمیں کیوں نہیں آیا۔ اچانک بیٹے نے والدہ سے کہا اگر تم مجھے والد کا نام نہیں بتا سکتی، تو اس شرمندگی کی زندگی سے بہتر ہے میں خودکشی کر لوں۔ جیسی ہی والدہ نے یہ الفاظ سنے تو تڑپ اٹھی اور بھاگ کر بیٹے کو روکا اور کہا تم سننا چاہتے ہو تو سنو، پاکستان بننے کے بعد ہمارے والد چاچا بھائی اور خاندان کے تمام افراد ہجرت کر کے پاکستان کے لیے عازم سفر ہوئے۔ راستے میں کسی جگہ ہمارے قافلے پر حملہ کردیا گیا۔ ہمارے مرد جان توڑ کر لڑتے لیکن تعداد کم اور اسلحہ نہ ہونے کی وجہ سے شہید ہوگئے۔ میرے والد نے رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھا کر ہم عورتوں کو نکالنا چاہا، لیکن میرے علاوہ کسی کو بھی بچانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

وہاں سے بھاگنے کے بعد میں انتہائی خوفزدہ حالت میں دن چپ کر گزارتی اور رات کو اللہ کا نام لے کر اس راستے پر چل پڑتی۔ ایک رات دوران سفر میں نے بچے کی رونے کی آواز سنی آگے جا کر دیکھا تو کہیں ل اش وں کے درمیان ایک شیر خوار بچہ پڑا ہوا تھا۔ میں نے اسی اٹھا دیا اور سفر کرتی ہوئی آخر کار پاکستان پہنچ گئی، مہاجر کیمپوں میں کسی جگہ بھی مجھے اپنے خاندان کا کوئی فرد نظر نہیں آیا۔ میری عمر کم تھی اور شادی بھی نہیں ہوئی تھی اپنی باقی زندگی میں نے اس بچے کی خاطر تنہا گزاری اور آج وہ بچہ میرے سامنے کھڑا ہے۔ اب بتاؤ رات کے اندھیرے میں ل اش وں کے درمیان سے اٹھائے گئے بچے کے والد کا نام مجھے کون بتاتا؟ ماں کی بات مکمل ہونے تک یہ ہر آنکھ آبشار تھی۔ وہ لڑکا آگے بڑھا اور اس عورت کے احسانات کا بوجھ اٹھائے اس کے قدموں میں گر گیا۔ آج جب میں اپنی موجوں ان نسل کو آزادی کی خوشیاں مناتے میں دیکھتا ہوں تو مجھے وہ ماں اور اس کی جیسی لاکھوں ق ربان ہونے والے ج ان یاد اتی ہے۔جو اپنی محنت کی کمائی دیکھی ہوئی بغیر اس دنیا سے چلے گی۔ اس بار شورشرابا اور بھائی کا سانس نکالنے کے بجائے ان علاقوں کو قربانی کے لئے فاتحہ خوانی کا اہتمام کریں آئیے اس بار ایک نئی شروعات کے شہیدوں کو سلام پاکستان زندہ باداس تحریر کو ضرور شیر کریں اپنے دوستوں کے ساتھ شکریہ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.