نیا تباہ کُن رواج

عام رواج سا ھو گیا ھے کہ بالمشافہ یا فون پر بات ختم کرتے یا کسی کو رخصت کرتے ھوئے۔ بلکہ اب تو تمام ریڈیو، ٹی وی میزبان اپنا پروگرام ختم کرتے ھوئے کہتے ھیں۔ کہ اپنا خیال رکھئے گا یا انگریزی میں Take Care وغیرہ کبھی ھم نے سوچا کہ اس جملے کے ذریعے ھم اپنے عزیزوں کو کیا پیغام دے رھے ھوتے ھیں۔

اس کا مطلب ھے کہ آپ کی حفاظت یا نگہبانی کرنے والا اور تو کوئی ھے نہیں، آپ اس دنیا میں لاوارث ھیں، اسلئے اپنا خیال خود ھی رکھئے گا۔ اور کبھی سوچا کہ یہ منحوس اور خدا ناشناس جملہ کن خدا شناس اور بابرکت جملوں کی جگہ ھم بولتے ھیں؟ مسلمان کوئی بھی زبان بولتے ھوں۔ وہ ایسے مواقع پر اپنے عزیزوں کو نہایت بابرکت دعاؤں کےساتھ رخصت کیا کرتے تھے۔ جنہیں سن کر نہ صرف سننے والے کی روح کی گہرائیوں میں ٹھنڈک کا ایک احساس پیدا ہوتا تھا۔ بلکہ یہ دعائیں ایک ملکوتی سائبان بن کر ہمارے عزیز کےساتھ ساتھ رہتی تھیں ھمارے ھاں ایسے موقع پر عربی زبان میں فی امان اَلله۔ اردو میں اللہ حافظ پنجابی میں رب راکھا اور پشتو میں خدائے پہ امان۔ جیسے میٹھے بول بولے جاتے, جن کا سب ھی کا ایک ھی مطلب تھا کہ میرے عزیز ! تم لاوارث نہیں ھو۔ تمہارے سر پر تمہارے رحمان و رحیم اور حفیظ و کریم کا سایہ موجود ھے وہ قدم قدم پر تمہاری حفاظت کرنے والا ھے۔ اور میں تمہیں اس کی حفظ و امان میں دیتے ہوئے رخصت کر رھا ھوں۔ عزیز ترین برادران و خواھرانِ من! کیا ربِّ کریم کی حفظ و امان میں اپنے پیاروں کو دینا زیادہ اچھا ھے یا اسے اسکی اپنی کمزوریوں کے حوالے کرنا زیادہ مناسب ھے؟ اور کیا ایمان کا تقاضا اپنے رب سے خیر مانگنا ھے۔ یا خود کو خیر کا مالک سمجھنا ھے؟ امید ھے کہ ھم اپنے رویّے میں فی الفور تبدیلی لانے میں کوئی ھچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.