نافرمان بیٹوں کی داستان

ایک بوڑھی عورت ہر روز صبح سے شام تک اپنی پُرانے اور کچے گھر کے دروازے کے سامنے بیٹھی رہتی۔ ایک دن ایک شخص جو ہر روز اس راستے سے گزرتا تھا۔ اس بوڑھی عورت کی طرف متوجہ ہوا کہ یہ پٹے پرانے کپڑے پہنی ہوئی عورت روزانہ یہاں کیا کرتی ہے۔ وہ اس عورت کے پاس گیا سلام دعا کے بعد پوچھا امی جان کیسی ہو۔
بوڑھی عورت نے ہاتھ آنکھوں کے اوپر رکھ کر اس شخص کو دیکھنی لگی اور کہا کہ میں ٹھیک ہوں۔ شخص : ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا کوئی بھی نہیں ہیں۔بوڑھی عورت : کیوں نہیں اللہ کا شکر ہے میرے چھ بیٹے ہیں۔ اللہ ان کو زندہ رکھیں۔شخص : آپ کے گھر سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بیٹوں کا کوئی کام روزگار نہیں ہے۔ بوڑھی عورت : نہیں بیٹا اللہ کا شکر ہے سارے بیٹوں پر میں نے تعلیم کے خوب خرچ کیا ہے۔ ایک انجنئیر ہے، ایک ڈاکٹر ہے اور باقی سب بڑے بڑے کاروبار کرتے ہیں۔ باپ ابھی تک زندہ تھا لیکن 2مہینے قبل وہ بھی وفات پا گیا ہے۔ شخص : اماں جی آپ کے بیٹے کدھر ہیں؟ بوڑھی عورت : بیٹوں کو اللہ نے بہت دولت سے مالا مال کیا ہے۔ جس بیٹے کی شادی کرتی اللہ اس کو دوسری جگہ اچھا گھر دیتا۔ اور ہمیں چھوڑ کر اس گھر میں اپنی بیوی کیساتھ رہتا۔ میرے بیٹے یہاں سے تقریباً 2 کلو میٹر آگے رہتے ہیں۔ شخص : تو آپ یہاں کیا کرتی ہو؟ بوڑھی عورت : اس راستے سے روز میرے بیٹے گزرتے ہیں۔ ان کو دیکھنے کیلئے میں یہاں بیٹھتی ہوں۔ لیکن اب آنکھوں کی بینائی بھی کمزور ہو گئی ہے اپنے بیٹوں کو کار میں بیٹھے ہوئے صحیح نہیں دیکھ سکتی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.