مولوی کی مرغی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک چور ہوا کرتا تھا وہ وہ مرغیاں چوری کرتا تھا۔ اور آئے روز وہ کسی نہ کسی کا مرغی چوری کر لیتا۔ اور اس طرح وہ اپنا کام اسی سے چلاتا تھا۔ ایک دن وہ اس نے ایک مرغی چوری کی۔ جب بات میں چلا کہ یہ مرغی مولوی صاحب کی ہے۔ تو وہ ڈر گیا اور سوچا کہ اب میں کیا کروں۔
اگر مرغی واپس کر دیں تو سب گاؤں کو پتہ چل جائے گا کہ مرغی چور یہ ہے۔ پھر اس نے ایک ترکیب سوجھی اور اسی مولوی صاحب کے پاس گیا۔ اور بولا:آج میں نے ایک مرغی چرا لی ہے مولوی صاحب!مولوی صاحب غصے سے لال پیلے ہو کر بولے:انتہائی بری حرکت ہے اس کی پاداش میں تمہیں دوزخ میں جلنا پڑے گااجازت ہو تو وہ مرغی آپ کی خدمت میں پیش کروں؟ہرگز نہیں۔ جس کی مرغی ہے اسی کوواپس کر دو ورنہ۔ لیکن اگر میں نے وہ مرغی اسے پیش کی ہوا اور اسنے لینے سے انکار کیا ہو تو ایسی صورت میں جبکہ اس کی رضا شامل ہو وہ مرغی تمہارے لئے جائز ہے۔ شکریہ مولوی صاحب!اس مختصر سے مکالمے کے بعد مولوی صاحب گھر پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کی اپنی ایک مرغی غائب ہے۔ چور چایے جتنا بھی طاقتور ہو۔ لیکن مولوی صاحب سے ڈرتا ہے کیونکہ انھیں پتہ ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کے منہ سے نکلے شبد کے بعد ایک منٹ بعد اس کا بھرتا بننے والا ہے۔

>

Sharing is caring!

Comments are closed.