مولوی کی بیوی سے محبت

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی لڑکے کو اپنے محلے کے مسجد کے امام کی بیوی سے محبت ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ اپنے محبت کے بارے میں اپنی ہی قریبی دوست کو آگاہ کر دیتا ہے، اور اسے کہتا ہے کہ مجھے اپنے مسجد کی امام کی بیوی سے بے انتہا محبت ہو گئی ہے۔ لیکن میں اس کے ساتھ ملاقات نہیں کر سکتا کیونکہ امام صاحب نماز پڑھ کے بہت جلدی کر واپس آ جاتا ہے۔

اس لئے آپ میرے اس کام میں مدد کرو۔ یعنی جب نماز ہو جائے تو آپ امام صاحب کو عجیب عجیب مسلئے سنا کر اسے الجاء جا کے رکھو۔ تاکہ وہ تمہارے مسئلوں کو جواب دیتے دیتے گھر سے لیٹ ہوجائیں اور اسی دوران مجھے ان کی بیوی سے ملاقات کیلئے خوب وقت مل جائے گا۔ اس کے دوست نے کہا یہ تو کوئی مسئلہ نہیں، اس سے اگلے دن وہ لڑکا نماز پڑھنے کیلئے چلا گیا۔ یہ نماز نہ تو اللہ کیلئے تھی۔اور نہ ہی کوئی نیکی کی نیت تھی ،یہ محض اپنے دوست کے گناہ میں ایک معاونت تھی۔ لڑکے نے ایسا ہی کیا، جب بھی امام صاحب نماز پڑھا کر فارغ ہوتے تو وہ امام صاحب کو لے کر ایک کونے میں بیٹھ جاتا، امام صاحب سے عجیب عجیب سوال کرتا اور امام صاحب اس کے عجیب سوالوں کا جواب دیتے لیٹ ہوجاتے۔ اسی دوران اس کا دوست امام صاحب کی بیوی سے ملاقات کرلیتا۔ یہ معاملہ تقریباً دو سے تین مہینے چلتا رہا، ایک دن اس کے دن میں خیال آیا کہ میں کتنا غلط کررہا ہوں، امام صاحب کی بیوی کیلئے میں نے کیا کیا تاکہ میرا دوست خوش ہوجائے لیکن یہ تو گناہ ہے جس کا مجھے کل کو حساب دینا ہے۔ دنیا مکافات عمل ہے ہوسکتا ہے۔

اس کے دل میں طرح طرح کے خیال آنا شروع ہوگئے۔ اس رات یہ سو نہیں پایا اور اس نے عہد کیا کہ میں صبح جاکر امام صاحب سے سب بات بیان کردوں گا اور اس کے بعد وہ جو مجھے سزا دیں گے مجھے قبول ہے۔اگلے دن لڑکے نے جاکر امام صاحب کو سب ماجرا بیان کردیا، امام صاحب نے اس کی بات سنی اور مسکرا کرکہا ارے نادان نہ تو میری کوئی بیوی اور نہ ہی میری کوئی بہن، تمہارا دوست کس کی بیوی کو ملنے جاتا ہے؟یہ بات سن کر وہ لڑکا پریشان ہوا اور امام صاحب سے کہنے لگا کہ واقعی آپ کی شادی نہیں ہوئی اور نہ ہی آپ کی کوئی بہن ہے۔ تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔ لڑکا بہت پریشان ہوا، اس نے سوچا کیوں نہ میں دیکھوں آخر وہ کس کو ملنے جاتا ہے، ایک دن اس نے اپنے دوست کا تعاقب کیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کا دوست اس کے گھر میں داخل ہوااور اسی کی بیوی کے ساتھ ملاقات کرتا رہا،۔یہ دیکھ کر یہ لڑکابہت پریشان ہوا ، اس کے پاوں نیچے سے جیسے زمین نکل گئی، یہ ہاتھ ملتا رہا۔ واقعی دنیا مکافات عمل ہے، جو کسی کے لئے گڑھا کھودے گا وہ اس میں خود ہی گرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں گناہ میں کسی کا ساتھ مت دو اور نیکی میں بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے کا ساتھ دو اور اچھا دوست وہی ہے جو کسی کو گناہ سے روکے اور اس کو اللہ کی طرف متوجہ کرے۔ یاد رکھو کہ جب تم کسی کے ساتھ بورا کرنے کا سوچو گے، تو تمہارے ساتھ بھی اسی طرح ہی ہوگا۔ اس لیے کسی کا برا نہ سوچو۔ اگر آپ کسی کے گھر کا دروازہ پاؤں سے کھولوں گے، تو یاد رکھو آپ کے گھر کا دروازہ بھی دوسرے کے پاؤں سے کھلے گا، اس لیے ہمیں خیال رکھنا چاہیے کہ کل ہمارے ساتھ بھی ایسا نہ ہو۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *