معمولی ملازمت سے دنیا کے پہلے 2 کھرب ڈالرز کے مالک بننے والے شخص ’’جیف بیزوز‘‘ زندگی میں کیسے کامیاب ہوئے؟ حیران کر دینے والی روداد

واشنگٹن (ویب ڈیسک) اگر آپ دنیا کے امیر ترین لوگوں کو دیکھے اور اس کی پیچھے تاریخ کو پڑھیں۔ تو آپ کو ایک بات ضرور معلوم ہو جائیں گی کہ اس میں کو کسی بھی بندے کو اباواجداد کا دولت نہیں رہا گیا ہے۔ ایمیزون کے بانی اور دیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوز پہلے ایسے فرد بن گئے ہیں جن کے اثاثے 2 کھرب ڈالرز سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ فوربز اور بلومبرگ نے اس کی تصدیق کی ہے۔ فوربز کے تخمینے کے مطابق بدھ کو جیف بیزوز کے اثاثے 204 ارب ڈالرز سے زیادہ ہوگئے تھے۔

>

جبکہ بلومبرگ کے مطابق اثاثوں کی مالیت 202 ارب ڈالرز تھی۔ دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص اور مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس اس وقت 116 ارب ڈالرز کے مالک ہیں یعنی جیف بیزوس سے 88 ارب ڈالرز پیچھے۔ ایمیزون کے بانی کے اثاثے اب امریکی جی ڈی پی کے ایک فیصد کے برابر پہنچ گئے ہیں جو 19 ٹریلین ڈالرز سے زیادہ ہیں (واضح رہے کہ ایک ٹریلین ایک ہزار ارب کے برابر ہوتا ہے)۔ ایمیزون کے حصص میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران آن لائن خریداری کے رجحان میں اضافے کے نتیجے میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کے نتیجے میں جیف بیزوز کے اثاثے بھی اس وبا کے دوران مارچ سے اب تک 97 ارب ڈالرز زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ 1994 میں قائم کی جانے والی کمپنی ایمیزون اس وقت امریکا سمیت متعدد ممالک میں آن لائن ریٹیل خریداری میں آگے ہے تاہم اسے اصل میں انٹرنیٹ بک اسٹور کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ آج یہ دنیا بھر میں کتابوں سے لے کر لگ بھگ ہر چیز کو آن لائن فروخت کررہی ہے اور اپنے قیام کے 26 سال بعد اس کے اثاثوں کی مالیت 1.7 ٹریلین ڈالرز تک پہنچ چکی ہے اور تجزیہ کاروں کا تخمینہ ہے کہ یہ دنیا کی پہلی ٹریلین ڈالر کمپنی بن سکتی ہے۔ جیف بیزوز کا تعلق ایک متوسط طبقے کے خاندان سے تھا اور انہوں نے اپنی صلاحیت سے اتنی ترقی کی۔ اپنے بچن سے ہی وہ بہت زیادہ تخلیقی ذہن کے مالک تھے اور دو سال کی عمر میں ہی انہوں نے اپنے پنگھوڑے کا سرہانہ اسکریو ڈرائیور سے کھول دیا تاکہ اسے حقیقی بیڈ کی شکل دے سکیں جبکہ چار سے سولہ کی عمر کے دوران وہ اپنی گرمیاں ٹیکساس میں اپنے دادا دادی کے فارم میں گزارتے جہاں ونڈ ملز وغیرہ کی مرمت کرتے۔

کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن کے بعد انٹیل سے ملازمت کی پیشکش کو ٹھکرا کر انہوں نے فٹ یل نامی کمپنی میں شمولیت اختیار کی اور وہاں سے ایک کمپنی ڈی ای شا کا حصہ بن گئے جہاں چار سال میں ہی سنیئر نائب صدر کے عہدے پر پہنچ گئے۔ 1994 میں انہیں ایک مضمون سے علم ہوا کہ انٹرنیٹ کی توسیع ایک سال میں 2300 فیصد تک ہوئی اور ان اعدادوشمار نے انہیں دنگ کردیا جس کے بعد انہوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بیس ممکنہ پراڈکٹس کی فہرست بنائی جنھیں آن لائن فروخت کیا جاسکے اور کتابوں کو سب سے بہترین آپشن پایا۔ اپنے اس نئے تجربے کے لیے (اس وقت ایسی کوئی آن لائن کمپنی نہیں تھی) انہوں نے ڈی ای شا میں بہترین عہدے کو چھوڑ دیا جس کے بعد انہوں نے ٹیکساس جاکر اپنے والد سے ایک گاڑی ادھار لی جس کے بعد سیٹل جاکر ایمیزون کی بنیاد ایک گیراج میں رکھی۔ اس زمانے میں وہ اکثر ملاقاتیں اپنے پڑوسی برنس اینڈ نوبل بک سیلرز میں جاکر کرتے۔ ایمیزون کے آغاز کے پہلے ہی مہینے میں اس کمپنی نے امریکا کی تمام پچاس ریاستوں اور 45 مختلف ممالک میں لوگوں کو کتابیں فروخت کیں جس کے بعد 15 مئی 1997 کو اس کے شیئرز عوام کے لیے پیش کیے گئے۔ آغاز میں تجزیہ کاروں نے اسے آمیزون ڈاٹ بم کا نام دیا کیونکہ ان کے خیال میں یہ بہت جلد ختم ہوجائے گی مگر ایسا نہ ہوسکا۔ خیال رہے کہ جیف بیزوز گزشتہ سال 36 ارب ڈالرز سے زیادہ محروم اس وقت ہوگئے تھے جب ان کی سابقہ بیوی میکنزی بیزوس سے علیحدگی ہوئی۔ دنیا کی مہنگی ترین طلاق کے نتیجے میں دنیا کے امیر ترین شخص کے اثاثوں کی مالیت میں کمی آئی جبکہ میکنزی بیزوز ایمیزون کے چند بڑے شیئر ہولڈرز میں سے ایک بن گئیں۔ جیف بیزوز نے 29 جولائی کو اپنے حصص کا 25 فیصد حصہ یا 19.7 ملین شیئرز میکنزی بیزوس کو منتقل کیے، تاہم ایمیزون کے بانی کو کمپنی کے ووٹنگ کنٹرول حاصل رہے گا۔ اس تحریر لکھنے کا ہمارا صرف ایک ہی مقصد ہے۔ اگر آپ ہی ہمت کرے اور محنت کرے اور دل ہار کر نہ بیٹھے۔ تو ہم امید کرتی ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ آپ بھی ان کامیاب انسان بن جاؤں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.