مسلم دنیا میں علم کی پیاس کیسی تھی۔

فراس الخطیب اپنی کتاب Lost Islamic History میں خلیفہ مامون کی طرف سے قائم کی گئی بیت الحکماء کا ذکر کرتا ہے۔ جہاں دنیا بھر کے اہل علم جمع ہوتے تھے۔ یہ بیک وقت یونیورسٹی، لائبریری، ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور کتابیں ترجمے کرنے کا سینٹر تھا۔ اس دور کو علوم کے حوالے سے دنیا کا گولڈن ایج کہا جاتا ہے۔
مسلم دنیا میں علم کی پیاس کیسی تھی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ کوئی بھی مترجم جب کسی کتاب کا عربی میں ترجمہ کرتا تو خلیفہ کی دربار سے اس کو کتاب کے وزن جتنا سونا ملتا۔ مصنف اس دور کی علمی کامیابی کی وجوہات ان بنیادی باتوں کو قرار دیتا ہے۔ :1) علم کے مراکز کا اسلامی خلافت تلے جمع ہونا جس کی بدولت کسی بھی شہر سے اہل علم کا ایک شہر (بغداد) آنا اور جمع ہونا پہلے کے مقابلے آسان ہوا۔ 2) عربی زبان کے پھیلاؤ سے لوگوں کو ایک مشترکہ زبان میسر آگئی جس کے ذریعے سندھ سے آیا اہل علم، کوفہ کا اسکالر، اسکندریہ کا تاریخ دان اور شام کا ریسرچر بغداد میں ایک دوسرے سے مستفید ہوسکتے تھے۔ کیونکہ عربی قرآن کی زبان تھی اس لیے کم و بیش تمام علاقوں میں یہ زبان سیکھی اور سکھائی جاتی تھی۔ 3) قرآن اور احادیث میں علم کے حصول کی تعریف اور دین کے لیے ان علوم کی ضرورت نے بھی بغداد کو علم کا مرکز بننے میں مدد دی۔ وراثت کے معاملے کو حل کرنے کے لیے خوارزم کے الجبرا نے مدد کی تو کعبے کی سمت کے تعین کے لیے الباطنی کی ٹرگنومیٹری نے مدد کی اور یوں دین وجہ بنی سائنسی علوم میں ترقی کا۔ جبکہ آج کچھ دعوی کرتے ہیں کہ سائنس میں ترقی کرنی ہے تو دین سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ یہ موجودہ سسٹم کی خرابیوں اور خامیوں کو دور کرنے کے بجائے scapegoat کے طور پر اسلامیات اور محمد بن قاسم کے چیپٹر کا ذکر چھیڑ دیتے ہیں۔ دراصل ان کا مسئلہ سائنس کی پستی کے بجائے اسلام سے بغض ہے۔مزید اچھی اور تازہ ترین اپ ڈیٹس اور اسلامی معلومات اور تحریر کے لئے ہمارے پیج کو فالو اور لائک کریں اور اپنی قیمتی رائے کے بارے میں کومنٹس میں ضرور آگاہ کریں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *