لالچی ڈاکٹر اپنے بیٹے کی جان لے بیٹھا۔

“ڈاکٹر صاحب جلدی سے آئے ایک ایمرجنسی کیس ہے ڈاکٹر سرمد کا اسسٹنٹ بدحواسی کےعالم میں دروازہ کھول کر ان کےآفس میں داخل ہوا۔ تو اس میں بدحواس ہونےکی کیا بات ہے؟ کیس تو آتے ہی رہتے ہیں۔” ڈاکٹر سرمد نےاخبار سےنظر ہٹا کر اسسٹنٹ کو گھورتے ہوئے کہا ان کی نظروں میں واضح ناپسندیدگی نظر آرہی تھی۔

>

سوری سر، وہ دراصل مریض کی حالت بہت خطرے میں ہے۔ اسسٹنٹ نےوضاحت پیش کرنا چاہی فیس وصول کرلی؟ ڈاکٹر نے سوال کیا وہ سر دراصل وہ ایک ایکسیڈنٹ کیس ہے، نوجوان سڑک پہ لاوارث پڑا تھا۔ تو کچھ لوگ اسے یہاں پہنچا گئے لواحقین آئیں گےتو فیس وصول کرلوں گا۔ اسسٹنٹ نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا۔ دفع ہوجاؤ یو ایڈیٹ ڈیم فول، تمہیں پتا نہیں میں فیس لیے بغیر آپریشن نہیں کرتا۔ بری طرح سے چلاتے ہوئے ڈاکٹرسرمد کہیں سے بھی پڑھے لکھے انسان نہیں لگ رہے تھے۔ پتا نہیں کیا سمجھ رکھا ہے، ڈاکٹر سرمد اب مفتوں کا علاج کرے گا ہنہہہ ڈاکٹر صاحب سر جھٹکتے ہوئے گویا ہوئےاسسٹنٹ جاچکا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کا موڈ بھی بگڑ چکا تھا، میز سے گاڑی کی چابی اٹھا کر وہ باہر چل دیے۔ پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد گھر پہنچے تو گھرمیں کوئی نہیں تھا، ان کی مسز کسی پارٹی میں شرکت کرنےگئی تھیں۔ اور اکلوتا بیٹا عاطف بھی غائب تھا ملازم کو چائے کا کہہ کر وہ لان میں آکر بیٹھے ہی تھے کہ فون کی گھنٹی بجی ہیلو، ڈاکٹر سرمد بات کررہے ہیں؟

جی! آپ کون؟ میں انسپکٹر شہزاد بات کررہا ہوں، آپ جنرل ہسپتال تشریف لائیے جلدی کیوں خیریت۔ آپ بس آجائیں جلدی بھاگم بھاگ ڈاکٹر صاحب ہسپتال پہنچے، کوریڈور میں موجود ایک ملازم انہیں اندر لے گیا۔ سردخانے میں وہی انسپکٹر موجود تھا جس نےان کو فون کیا تھا۔ “ڈاکٹر صاحب مجھے افسوس ہے۔ کہ میرےپاس آپ کیلیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے، انہیں پہچانتے ہیں؟” انسپکٹر نےبات کرتے ہوئے ایک لاش کے اوپر سےکپڑا ہٹایا، لاش پہ سےکپڑے کا ہٹنا تھا۔ کہ ڈاکٹر صاحب کو محسوس ہوا جیسے ان کےسر پہ آسمان گرپڑا ہو، وہ لاش ان کےاکلوتے بیٹے عاطف کی تھی “اس لڑکےکو پہلے”الشافی ہسپتال” لےجایا گیا تھا۔ لیکن وہاں ڈاکٹر کی بےتوجہی اور بروقت طبی امداد نا ملنےکےباعث اس کی وفات ہوگئی، وہاں موجود ڈاکٹر نےفیس کے بغیر آپریشن کرنے سے انکار کردیا تھا۔ انسپکٹر تفصیلات بتاتا جارہا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب اپنےہی خیالوں میں گم تھے، ان کےذہن میں یہ جملہ ہتھوڑے کی مانند لگ رہا تھا۔ اسےالشافی ہسپتال لےجایا گیا تھا لیکن وہاں ڈاکٹر نےفیس کےبغیر آپریشن کرنےسےانکار کردیا” ڈاکٹر سرمد کےہسپتال کا نام”الشافی ہسپتال” تھا. یہ پیغام ان تمام ڈاکٹرز کے لیے ہے جو انسانیت سے زیادہ مال و زر کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس پوسٹ کو اتنا شیئر کریں کہ ہر ڈاکٹر تک پہنچے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.