قربت کے کتنی دیر بعد غسل کر نا چاہیے؟ حدیث کی روشنی میں نا پا کی میں کھا نا پینا سو نا کیسا ہو تا ہے؟

دیکھیں اس حوالے سے شریعت نے کوئی وقت مقرر نہیں کیا کہ آپ پندرہ منٹ کے بعد غسل کر یں آدھے گھنٹے کے بعد کریں یا ایک گھنٹے کے بعد غسل کر یں شریعت یہ کہتی ہے کہ شخص کو چاہیے کہ جتنا جلدی ہو سکے وہ غسل کر کے طہارت حاصل کر لے مسلمان کو بھی چاہیے کہ وہ ہر وقت طہارت کی حالت میں ہو۔ افضل اور اہمیت والا کام یہی ہے کہ جیسے غسل لازم ہوا فوراً غسل کر لیا جا ئے غسل میں تاخیر نہ کر نا یہ افضل اور بہتر ہے۔ لیکن اگر کوئی غسل کو اتنا موخر کر نا چاہتا ہے مثلاً رات میں میاں بیوی پر غسل لازم ہوا اور وہ رات کے آخری حصے تک اس غسل کو موخر کر نا چاہتے ہیں۔

>

یعنی رات کو غسل واجب ہو گیا اور انہوں نے صبح اٹھ کر غسل کر لیا تو اتنی گنجائش باقی ہے اتنی تاخیر غسل میں کر سکتے ہیں لیکن یہاں پر ایک عرض کر نا چاہتا ہوں کہ حضرت علی ؓ نے فر ما یا کہ میں نے کبھی بھی رات کے اول حصے پر اپنے اوپر غسل لازم نہیں کیا۔ اب اس غسل کو لازم کر نے سے کیا مراد ہے آپ فرما تے ہیں کہ میں رات کے آخری حصے میں غسل میں لاز م کر تا وجہ یہ ہے کہ میں نہیں چاہتا کہ میں زیادہ دیر تک نا پا کی کی حالت میں رہوں اگر کوئی اتنی تاخیر کر نا چاہتا ہے اتنی دیر کے لیے کہ رات میں غسل لازم ہو ا تو آخری رات کے حصے میں وہ اُٹھ کر غسل کر لے یہ گنجائش باقی ہے۔

اس طرح کی احادیث میں آتا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ آپ فرما تے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ سے عرض کی اگر کوئی شخص جونبی ہو تو کیا وہ سن سکتا ہے تو آپ نے فر ما یا کہ سن سکتا ہے ۔ وہ نماز جیسا غسل کر ے۔ اور اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پو چھا گیا کہ کیا نبی ﷺ جب ان کے اوپر غسل لازم ہو تا تو فوراً غسل کر تے یا غسل کو مو خر کر تے تو آپ فر ما تی ہیں کہ آپ ﷺ کبھی اسی وقت غسل کر لیتے اور کبھی رات کے آخری حصے میں اٹھ کر غسل کر تے۔

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے حضرت عائشہ ؓ فرما تی ہیں کہ نبی ﷺ پر جب غسل لازم ہو تا حاجت ہو تی تو آپ ﷺ سونے کا ارادہ کر تے یا کچھ کھانے کا ارادہ کر تے تو آپ نماز جیسا وضو کر تے اب یہ جو وضو کر نا یہ بھی و اجب نہیں ہے۔ اسی حالت میں سونا کھانا پینا چاہتا ہے تو اس کے اوپر یہ واجب ہے کہ وہ وضو کر ے اگر وہ بغیر وضو کیے بھی جو سو نا چاہتا ہے تو سو سکتا ہے اسے کوئی گ ن ا ہ نہیں ملے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.