قدیم نوادرات جمع کرنے کی شوقین ایک خاتون نے دیکھا

قدیم نوادرات جمع کرنے کی شوقین ایک خاتون نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی دکان کے کاؤنٹر پر بلی کو جس پیالے میں دودھ پلا رہا ہے۔ اس چینی کے قدیم پیالے کی قیمت تیس ہزار ڈالر سے کم نہیں۔ خاتون نے سوچا کہ شاید یہ شخص اس پیالے کی قیمت سے ناواقف ہے۔
اس خاتون نے اپنے طور پر بے حد چالاکی سے کام لیتے ہوئے کہا۔ جناب کیا آپ یہ بلی فروخت کرنا پسند کریں گے؟ تو اس شخص نے کہا۔ یہ میری پالتو بلی ہے، پھر بھی آپ کو یہ اتنی ہی پسند ہے تو پچاس ڈالر میں خرید لیجیے۔ خاتون نے فوراً پچاس ڈالر نکال کر اس شخص کو دیے اور بلی خرید لی، لیکن جاتے جاتے اس دکان دار سے کہا۔ میرا خیال ہے کہ اب یہ پیالہ آپ کے کسی کام کا نہیں رہا۔ برائے کرم اسے بھی مجھے دے دیجیے۔ میں اس پیالے میں بلی کو دودھ پلایا کروں گی۔ دکان دار نے کہا۔ خاتون! میں آپ کو یہ پیالہ نہیں دے سکتا، کیونکہ اس پیالے کو دکھا کر اب تک 300 بلیاں فروخت کرچکا ہوں۔ ہمارے اس تحریر کا مقصد صرف یہی ہے کہ یہی حال ہماری عوام کا ہے۔ ہمیں بھی اسی طرح کی مٹی پیالہ دیکھا کر ہر بار بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ اور ہم بےوقوف بنتے جا رہے ہیں۔ امید کرتے ہیں۔ کہ آج کی ہماری یہ تحریر آپ کو ضرور پسند آئی ہوگی۔ مزید اچھی تحریروں کے لئے ہمارے پیج کو فالو اور لائک کریں اور اپنی قیمتی رائے کے بارے میں کمنٹ میں ضرور آگاہ کریں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *