قدرت کا معاملہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اللہ رب العزت ہر انسان کو کسی نہ کسی کے وسیلے سے رزق دیتا ہے جو کچھ ہمیں ملتا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ سب کچھ ہماری اپنی ذات کے لئے ہی ہے۔ بلکہ اگر ہمیں زیادہ مل رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں تقسیم کرنے لئے دیا گیا ہے۔ ایک بھٹے والا ٹھیلا چلاتا تھا بھٹہ والے کے پاس روز ہے بچہ آتا تھا، اور کہتا تھا کہ چاچا ایک بھٹہ تو دے دو۔

وہ بچے کو بٹھہ دے دیا کرتا تھا، اسی طرح بھٹے والے کے پاس ایک لمبی سی گاڑی آتی تھی۔ گاڑی والا ہر روز بھٹے والے بیس بھٹوں کا آرڈر کروا کر گھر لے جا یا کر تاتھا۔ اب اسی طرح بھٹے والے کا کاروبار اچھا چلنے شروع ہوگیا۔ ایسے طرح دن گزرتے گئے اور کاروبار اچھا ہوتا رہا۔ ایک دن بھٹے والا بھٹوں کی تیاری میں مصروف تھا، کہ ایسی وقت وہ یہ بچہ آیا۔ اور کہاں چاچا ایک بھٹ تو دے دو، مصروف ہونے کی وجہ سے چاچا نے کہا، اب جا روز آتے ہو بھٹہ مانگنے۔ وہ بچہ چپ چاپ وہاں سے چلا گیا۔ بھٹے والا بھٹے تیار کر کے انتظار کرتا رہا وہ لمبی سی گاڑی اس دن نہ آئی بھٹے والے نے قدرت کے ماجرے کا نوٹس نہ لیا اگلے دن پھر وہ انتظار کرتے رہا وہ لمبی گاڑی پھر نہیں آی۔ اس کے اگلے روز دوبارہ انتظار کے باوجود گاڑی نہ آئی ایسے ایک ہفتہ گزر گیا اب تک بھٹے والے کو سمجھ نہ ایا کہ قدرت کا ماجرا ہے کیا ؟ پھر وہ بچہ آیا بھٹے والے کے پاس “چاچا ایک بھٹہ تو دےدو” ، بھٹے والے نے بچے کی طرف دیکھا اور پھر بھی نہ سمجھا کہ قدرت کا ماجرا کیا ہے۔

بہرحال اس کو ایک بھٹہ دے ہی دیا یہاں اس نے بھٹہ دیا گھنٹے دو گھنٹے کے بعد وہ لمبی گاڑی آگئ کہ “بھائی 20 بھٹے دے دو،” اس نے جلدی جلدی بھٹے بناےاور گاری والے کو دے دیا۔ اور گاڑی کے مالک سے پوچھا “سرکار آپ ایک ہفتے سے کہاں تھے؟ “ تو مالک نے کہا “یہ میرے دفتر سے گھر جانے کا رستہ ہے یہاں رستے میں ایک پٹرول پمپ ہے اس پمپ سے میں گاڑی میں تیل بھرواتا ہوں۔ تو ایک بار اس کے پٹرول میں کچرا آگیا تو میں نے وہاں سے اپنا رستہ بدل لیا ،اب میں دوسرے رستے سے جاتا ہوںاور دوسرے پمپ سے تیل بھرواتا ہوں _لیکن اس پمپ کے مالک نے مجھے رابطہ کیا اور کہا میرے ملازمین کی غلتی ہے اگلی بار سے ایسا نہیں ہوگا. تو میں نے اسے معاف کر دیا، اور اپنا یہ رستہ واپس اختیار کر لیا” بھٹے والا گھر گیا رات سوچتے رہا پھر اسے سمجھ آیا کہ جب اس نے بچے کو بھٹہ دینا بند کیا تو اللہ نے اس لمبی گاڑی والے کے پٹرول میں بھی کچرا ڈال دیا۔ اور جب اس نے بچے کو بھٹہ دینا شروع کیا تو اللہ نے اس گاڑی والے کا معافی نامہ اس پمپ والے سے کروا دی۔ گویا اس کا اپنا رزق اس بچے کے پیٹ سے جڑا ہوا تھا جو نہ تو اسکا ملازم تھا نہ ہی اولاد تھی نہ ہی جاننے والا تھا بس اللہ کا ایک بندہ تھا پھر وہ یہ سمجھ گیا کہ کسی کو رزق کو پہچانے کے لیےاللہ کسی کو رزق دیتا ہےاور جب ہم وہ رزق نہیں پنچاتے تو اللہ ہمارا رزق بھی روق دیتا ہےاور وہ بندا کون ہوتا هے وہُ ہم کبھی نہیں جان سکتے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *