غیر محرم عورت کو دیکھنے کے عادی تھے

آج آپ کو ایک ایسے نوجوان کے بارے میں قصہ سناتے ہیں جو کہ غیر محرم عورت کو دیکھنے کے عادی تھے۔ لیکن اس کے دل میں پھر بھی اللہ کا ایک خوف ڈر تھا۔ اور وہ اپنے اس عادت سے کافی خوفزدہ تھے۔ وہ اپنا یہ عادت چھوڑنا چاہتے تھے۔ لیکن نہ چھوڑو سکے۔ ایک دن وہ اس عادت سے تنگ آ کر ایک بڑے عالم دین جا ملا اور اپنا پورا قصہ سنایا۔
عالم دین نے اس کا پورا قصہ کافی غور سے سنا۔ پھر اس کے بعد پر غور کیا عالم دین نے اس نوجوان کو دودھ سے لبالب برا ہوا برتن دے دیا۔ اور اس سے کہا کہ اس کو فلاح جگہ تک لے جاؤ۔ لیکن برتن سے دودھ کا ایک قطرہ بھی نیچے نہیں گرنا چاہیے۔ میں خود بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔ اگر آپ سے راستے میں ایک قطرہ دودھ بھی گر گیا تو میں آپ کو سب کے سامنے چھڈی ماروں گا۔ جوان کوزے کو صحیح و منزل تک لے گیا اتنی احتیاط سے کہ ایک قطرہ بھی دودھ کا نہ گرا. تب عالم دین نے اس سے پوچھا؟ راستے میں کتنی لڑکیوں کو دیکھا ؟ جوان نے جواب دیا کسی کو بھی نہیں۔ میں اس فکر میں تھا کہ دودھ کو احتیاط سے منزل تک پہنچا دوں تاکہ لوگوں کے سامنے مار کھا کر ذلیل نہ ہوں عالم دین نے کہا! یہ اس مؤمن کی داستان ہے جو خدا کو ہمیشہ اپنے کاموں پر حاضر و ناظر جانتا ہے. اور قیامت کے دن وہ نہیں چاہتا کہ اپنے حساب و کتاب کے ذریعے لوگوں کی نظروں سے گرے۔ ایمان کے بعد بڑی نعمت نیک عورت ہے۔ جس بھی بندے کو نیک عورت مل جائے وہ بڑا خوش نصیب ہوتا ہے۔

>

Sharing is caring!

Comments are closed.