غریب کسان اور آں کی خوبصورت بیوی

ایک غریب کسان کی شادی بے انتہائی خوبصورت لڑکی سے ہوگی، ان کی حسن کاراز ان کے لمبے سیاہ اور گنھے بال تھے۔ جس کی فکر اس لڑکی کو نہیں بلکہ ان کے شوہر کو بھی تھی۔ ایک دن بیوی نے اپنے شوہر سے کہا کہ واپسی پر آتی ہوئی دکان سے ایک کنگھی لے کے آنا کیوں کے بالوں کو لمبے، گھنے اور مضبوط رکھنے کے لیے انہیں بنوانا اور سنورنا بھی ضروری ہوتا ہے، اور آخر کب تک میں ہمسایہ کی کنگھی استعمال کرتی رہو گی۔

>

غریب کسان نے اپنی بیوی سے معذرت کر لی اور بولا، “بیگم! میری تو اپنی گھڑی کا سٹرایپ کافی دِنوں سے ٹوٹا ہوا ہے، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اُسے ٹھیک کروا سکوں، تو میں بھلا کنگھی کیسے لا سکتا ہوں۔ تم کچھ دِن مزید ہمسائیوں کی کنگھی سے گزارا کرو، جب پیسے ہونگے تو لے آونگا۔۔۔!” بیوی اپنے شوہر کی مجبوری کو سمجھ رہی تھی اِس لیے زیادہ تکرار نہیں کیا۔ کسان نے اُس وقت تو بیوی کو چپ کروا دیا، لیکن پھر اندر ہی اندر اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ، میں بھی کتنا بدبخت ہوں کہ اپنی بیگم کی ایک چھوٹی سی خواہش بھی پوری نہیں کر سکتا۔ دوسرے دِن کھیتوں سے واپسی پر کسان ایک گھڑیوں کی دُکان پر گیا اور اپنی ٹوٹی ہوئی گھڑی اونے پونے داموں بیچی اور اُس سے ملنے والے پیسوں سے ایک اچھی سی کنگھی خریدی اور بڑی راز داری سے چھپا کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔اُس نے سوچا گھر جا کر بیوی کو سرپرائز دونگا تو وہ بہت خوش ہوگی۔ جب وہ گھر گیا تو کیا دیکھا اُسکی بیوی نے اپنے لمبے بال کٹوا دئیے تھے۔ اور مسکراتے ہوئے اُسکی طرف دیکھ رہی تھی۔ کسان نے حیرت سے پوچھا، “بیگم! یہ کیا کیا تم نے اپنے بال کیوں کٹوا دئیے، پتہ ہے وہ تمہارے اُوپر کتنے خوبصورت لگتے تھے۔۔۔؟” بیگم بولی، “میرے سرتاج! کل جب آپ نے کہا کہ آپکے پاس گھڑی ٹھیک کروانے کے پیسے بھی نہیں ہیں تو میں بہت افسردہ ہو گئی۔چنانچہ آج میں قریب کے بیوٹی پارلر پر گئی تھی، وہاں اپنے بال بیچ کر آپکے لیے یہ ایک گھڑی لائی ہوں۔۔۔!” جب کسان نے اُسے کنگھی دکھائی تو فرطِ جذبات میں دونوں کی آنکھیں نم ہو گئیں. محبت صرف کچھ دینے اور لینے کو ہی نہیں کہتے، بلکہ محبت ایک قربانی اور ایثار کا نام ہے جس میں اکثر اپنی خواہشات اور جذبات کو صرف اِس لیے قربان کر دیا جاتا ہے تاکہ رشتوں کا تقدس اور احترام برقرار رہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.