عصر سے کچھ پہلے حضرت عباس بن ابی وقاصؑ مدینہ منورہ کے بازاروں میں آپ نے دیکھاکہ

اسلام آباد (نیشنل نیوز) عصر سے کچھ پہلے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ مدینہ منورہ کے بازاروں میں گھومتے ہوئے احجارالزیت (مقام) پر پہنچے، آپؓ نے یہاں دیکھا کہ کچھ لوگ ایک سوار شخص کے پاس جمع ہیں جو بہت بری اور ناگوار آواز کے ساتھ چیخ رہا ہے اور حضرت علیؓ کی شان میں گستاخی کر رہا ہے۔ حضرت سعدؓ نے پوچھا: یہ کیا ماجرا ہے؟

>

ایک شخص نے کہا کہ یہ آدمی جو اپنی اونٹنی پر سوار ہے، حضرت علیؓ کی شان میں تنقیص کر رہا ہے۔ حضرت سعدؓ طیش میں آ گئے، سارے مجمع کو پیچھے دھکیلتے ہوئے آگے بڑھے اور اس سوار سے کہا: اے فلاں! تو حضرت علیؓ کی شان میں تنقیصکیوں کر رہا ہے؟ کیا حضرت علیؓ پہلے مسلمان ہونے والے شخص نہیں ہیں؟ کیا حضرت علیؓ پہلے شخص نہیں ہیں جنہوں نے رسول کریمؐ کے ساتھ نماز پڑھی؟ کیا حضرت علیؓ سب سے زیادہ زاہد فی الدنیا (دنیا سے بے رغبت) نہیں ہیں؟ کیا حضرت علیؓ سب سے بڑے عالم نہیں ہیں؟ کیا وہ رسول اللہؐ کے داماد نہیں ہیں، حضورؐ نے اپنی بیٹی ان سے نہیں بیاہی تھی؟ کیا حضرت علیؓ غزوات میں رسول اللہؐ کے علم بردار نہیں رہے؟ کیا حضرت علیؓ غزوات میں رسول اللہؐ کے علم بردار نہیں رہے؟ اس کے بعد حضرت سعدؓ قبلہ رخ ہو کر اس آدمی کے خلاف یوں بد دعا کرنے لگے: اے اللہ! اس آدمی نے تیرے ایک دوست کی شان میں گستاخی کی ہے، لوگوں کا یہ مجمع اس وقت تک واپس نہ لوٹے جب تک کہ تو ان لوگوں کو اپنی قدرت کا مشاہدہ نہ کرا دے۔۔۔ خدا کی قسم! ابھی لوگ واپس نہیں لوٹے تھے کہ جس اونٹنی پر وہ آدمی سوار تھا اس نے زور دار جھٹکا دیا اور اس کو نیچے پھینک دیا جس سے اس کا سرتن سے جدا ہو کر دور جا گرا اور دماغ پھٹ گیا اور وہیں مر گیا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آج کی اسلامی تحریر اپ کو ضرور پسند آئی ہوگی۔ نذیر ناجی کی فنی کے لئے ہمارے پیج کو ضرور لائک کریں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.