عالِم بدو

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حجاج بن یوسف کو کون نہیں جانتا۔ اپنے وقت کی انتہائی ظالم بادشاہ کہیں جارہا تھا کہا جا رہا ہے۔ کہ ایک دفعہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ لیکن حجاج بن یوسف بغیر روزے کے تھا‘ دوپہر کا وقت ہوا تو اس کےلئے کھانا آ گیا ‘ اس نے اپنے ملازم کو کہا کہ اگر کوئی مسافر یہاں موجود ہے۔ تو اسے بلا لاﺅ۔ اس کا ملازم باہر بھاگتا ہوا گیا۔

اور ایک بدو کو پکڑ کر لے آیا‘ حجاج نے اسے کھانے کی دعوت دی تو وہ کہنے لگا کہ میں آج اللہ کی دعوت سے لطف اندوز ہورہا ہوں یعنی اس نے مجھے روزہ رکھنے کی دعوت دی اور میں نے قبول کرلی۔حجاج اسے کہنے لگا کہ آج کا تو سخت گرم ہے‘ اتنی گرمی میں تم سے برداشت نہیں ہوگی لہٰذا بہتر ہے کہ افطار کر لو‘بدوکہنے لگا”اتنا گرم نہیں جتنا یوم محشرہوگا“حجاج نے اس پر اسے کہا کہ کوئی بات نہیں‘ بہت گنجائش ہے تم آج افطار کرکے عید کے بعد گنتی پوری کرسکتے ہو‘ اس میں کیا حرج ہے‘بدو نے جواب دیا ”کیا آپ ضمانت دے سکتے ہیں کہ میں عید کے بعد تک زندہ رہوں گا“حجاج نے بدو کا جب یہ جواب سنا تو بولا‘اللہ تمہیں سلامت رکھے تمہاری لاعلمی میرے علم سے ہزار درجے بہتر ہے۔۔۔۔یہ بھی پڑھیں۔۔۔اگر کسی دوسرے ملک کے سفر کے دوران پاسپورٹ گُم ہوجائے تو سنگین مسائل پیدا ہوجاتے ہیں اور دیار غیر میں انسان مشکلات کا شکار ہوجاتا ہے۔آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں کیا کرنا چاہیے۔ اپنے اوسان قائم رکھیں یاد رکھیں کہ دنیا کا خاتمہ نہیں ہوگیا جوآپ اس قدر پریشان ہیں بلکہ اپنے اعصاب پر قابو پائیں۔ یاد کریں کہ آخری بار کہاں دیکھا تھا یہ یاد کرنے کی کوشش کریں کہ آخری بار آپ نے پاسپورٹ کہاں رکھا تھا۔کہیں چائے یا کافی پیتے ہوئے تو ریسٹورنٹ میں نہیں بھول آئے۔ سوشل میڈیا کی مدد حاصل کریںاپنی تصویر کے ساتھ فیس بک یا ٹویٹر پر سٹیٹس اپ ڈیٹ کریں۔اگر آپ کی قسمت اچھی ہوئی تو کوئی نہ کوئی آپ کی مدد کو آجائے گا۔ اگر آپ کو ہماری تیری پسند آگئی ہو تو ہمارے پیج کو ضرور شیئر کریں شکریہ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.