طلاق کی شرح میں تشویشناک اضافہ صرف تین ماہ میں

کرونا وائرس جہاں ملکی حالات معیشت و کاروبار نوکری پر اثر انداز ہوا ہے۔ وہاں ہی ایک اور چیز پر بھی سب سے زیادہ اثر انداز ہوا ہے ۔ اور وہ ہے ازواج زندگی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بھی یہ ہے کیونکہ پچھلے تین چار ماہ سے ملک میں بے روزگاری کی شرح اور بھی بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کے شہر ملتان سے ایک جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ کی تین ماہ میں سات سو سے زائد طلاق کے کیسز ریکارڈ ہو چکے ہیں۔

جس کی وجہ کہیں گھریلو جھگڑے کو کسی کو لاک ڈاؤن کی معاشی تنگی نے مجبور کیا میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال سے اس سال چار فیصد طلاق کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ایک نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ملتان میں سینکڑوں گھر لوڈ ڈاؤن کی وجہ سے اجڑ گئے۔معاشی تنگی نے مجبور کردیا۔ گزشتہ سال کی نسبت طلاق کی شرح میں 4 فیصد تک اضافہ ہوگیا۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملتان میں لاک ڈاؤن نے سینکڑوں گھر اجاڑ دیئے، کئی شادی شدہ جوڑوں کے درمیان معمول کے جھگڑوں نے گھریلو تشدد کی صورت اختیار کی اور معاملہ طلاق تک جا پہنچا۔ملتان ميں گزشتہ سال کی نسبت طلاق کی شرح ميں 4 فيصد اضافہ ہوگیا، کرونا وائرس کے باعث تین ماہ سے جاری لاک ڈاؤن کے دوران میاں بیوی میں علیحدگی کے 740 کیسز رپورٹ ہوئے۔قانونی ماہرین نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک ریکارڈ کیسز کی تعداد گزشتہ سال سے زیادہ ہے جو بہت الارمنگ ہے۔ماہرین کے مطابق زیادہ تر لوگ گھر پر بند رہنے کی وجہ سے اکتاہٹ اور چڑچڑے پن کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے ان کی ذہنی صحت بھی متاثر ہونے لگی ہے۔ماہر نفسیات کا کرونا لاک ڈاؤن کے دوران طلاق کی بڑھتی شرح پر کہنا ہے کہ ہمارا خاندانی نظام ہی ایسا ہے کہ ایک آدمی کماتا ہے باقی گھر والے کھاتے ہیں، کرونا کے باعث وہ بھی گھر بیٹھ گیا، تنگ دستی، غربت اور تشدد کی وجہ سے معاملات طلاق تک پہنچ رہے ہیں۔عوام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ ازدواجی زندگیوں کے خاتمے کا سبب بھی بن رہا ہے۔ یاد رہے کہ اگر حالات اس طرح بدریج خراب رہے تو خطرناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔کیوں کہ ہمارے ملک میں بے روزگاری کی شرح پہلی بھی کافی زیادہ ہے اور لاوک ڈاون کی وجہ سے اور بھی زیادہ کر دیا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *