صبح نہار منہ پانی پینے سے

بعض لوگوں میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ نہار منہ پانی پینا صحت کے لئے مضر ہے ۔ دراصل اس بات کی بنیاد چند ضعیف روایت ہیں ۔

>

پہلی روایت : ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا: ترجمہ : جس نے نہار مُنہ پانی پیا اس کی طاقت کم ہو گئی۔

ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی روایت میں بھی یہ ہی الفاظ ہیں ترجمہ :جس نے نہار مُنہ پانی پیا اس کی طاقت کم ہو گئی ۔س روایت کی سند میں عبدالاول المعلم نامی راوی کے بارے میں یہ روایت ضعیف ہونے کی وجہ سے ہی الکافل فی ضعفاء الرجال میں درج کی گئی ۔

اس روایت کی سند میں ایک راوی عاصم بن سلیمان الکوزی ہے جس کو أئمہ حدیث نے جھوٹا،روایات گھڑنے والا قرار دیا ہے ۔

٭ ابن الجوزی وغیرہ محدثین نے یفقد کی جگہ یعقد کا لفظ ذکر کیا ہے اور اس روایت کو موضوع میں شمار کیا ہے ۔ )مذکورہ روایات کا حال جان لینے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ نہار منہ پانی پینے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی حدیث ثابت نہیں ہے ۔

نہار منہ پانی پینا طب کی نظر میاسلام نے نہار منہ پانی پینے سے منع نہیں کیا ہے اور نہ ہی نہار منہ پانی پینے میں اسلامی اعتبار سے صحت کو نقصان پہنچنے کا کوئی ثبوت موجود ہے ۔

جب ہم طب کی روشنی میں نہار منہ پانی پینے کا جائزہ لیتے ہیں تو اس کے بے شمار فوائد نظرآتے ہیں۔ مثلادردِ سر و جسم، بواسیر،بلڈ پریشر،لقوہ، دمہ،کھانسی، جگر کے امراض، بلڈ کولیسٹرول، بلغم، آرتھرائٹس، مینن جائنٹس، استخاضہ، ٹی بی، بے ہوشی، مروڑ، تیزابیت، قبض، ذیابیطس، گیس ٹربل ،بچہ دانی کا کینسر، امراض چشم،امراض ناک ، امراض کان ، امراض گلہ،قلب کے نظام میں پایا جانے والا نقص،

موٹاپے کے سبب جنم لینے والی بیماریاں، گردن توڑ، گردے کی خرابی، معدے کی بیماریاں اور متعدد زنانہ امراض سے بچنے کے لئے نہار منہ اور خالی پیٹ پانی پینا مفید ثابت ہوتا ہے۔

س روایت کی سند میں عبدالاول المعلم نامی راوی کے بارے میں امام طبرانی نے اس روایت کے بعد لکھا کہ “یہ روایت صرف عبدالاول المعلم نے ہی بیان کی ہے “۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *