سہانی رات

میں ہر روز سکول سے واپس آنے کے بعد ہوم ورک کر کے دریا پر ٹہلنے کے لئے چلا جاتا تھا دریا ہمارے سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ایک دن جب میں ٹہلنے کے لئے دریا پر گیا تو اس دن بہت سہانا موسم تھا آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے ٹائم کا پتہ ہی نہ چلا

>

۔ گھڑی پر ٹائم دیکھا تو شام کے آٹھ بج رہے تھے سردیوں کا موسم تھا اسی لیے مجھے ٹھنڈ محسوس ہونے لگی اور میں جلدی جلدی قدم بڑھاتا ہوا چل پڑا چلتے چلتے مجھے کسی کی پائل کی آواز آنے لگی

میں نے اسے اپنا وہم سمجھ کر پھر چل پڑا پھر پائل اور ہنسی کی آواز آئی تو میں اس آواز کی طرف چل پڑا میں ایک بہادر انسان تھا جب میں ایک بڑے سے درخت کے پاس پہنچا تو وہاں ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی بیٹھی ہوئی تھی ۔

میں نے جب اتنی خوبصورت لڑکی دیکھی تو کہا…. کہ کون ہو تم؟؟؟؟ اور تمہارا کیا نام ہے؟؟؟ اور کہاں سے آئی ہوں؟؟؟ میں نے ایک ہی سانس میں اتنے سارے سوال کر دیے۔ تو وہ پیاری سی آواز کے ساتھ کہنے لگی کہ میں آپ کو اپنی اصلیت بتاؤ تو آپ ڈرو گے تو نہیں..

.. نہیں میں نے کہا …. نہیں ڈروں گا۔ تو کہنے لگی میں ایک جن ہوں👽👽 اور آپ سے محبت کرتی ہو۔ جب آپ دریا پر نہیں ہوتے تو میں بے چین ہو جاتی ہوں اور میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔ پلیز قمر میری محبت کو انکار نہ کرنا……. اس کی معصومیت کو دیکھ کر میں پہلے ہی دیوانہ تھا اس لیے میں نے اس کی محبت کا اقرار کر لیا تو وہ بہت خوش ہوئی😊 اس کے بعد ہماری روز ملاقاتیں ہونے لگیں ایک دن میں نے کہا

کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ہو؟؟ تو پہلے وہ بہت خوش ہوئی اور پھر پریشان ہوگی میں نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو کہنے لگی کہ میرے ماں باپ مر گئے ہیں اور میرے چچا میری شادی اپنے بیٹے سے کرنا چاہتے ہیں اسی لیے میں پریشان ہوں کہ وہ تمہیں مجھ سے جُدا نہ کر دیں۔ جب میں نے یہ سنا تو میں سوچ میں پڑگیا کہ اب کیا کیا جائے تو تھوڑی دیر بعد مجھے ایک عامل صاحب کا خیال آیا جو ہمارے گاؤں سے تھوڑی دور رہتے تھے ۔

ان کا خیال آتے ہی میں جھٹ سے بول پڑا کہ میں ایک عامل کو جانتا ہوں وہ ضرور ہماری مدد کریں گے😊 یہ کہہ کر میں اپنی جان کو خدا حافظ کر کے گھر کی طرف چل پڑا۔ گھر پہنچ کر دیکھا تو رات کے دو بج رہے تھے ۔ گھر والے سب سو رہے تھے اسی لیے میں آرام سے اپنے کمرے میں چلا گیا اور سو گیا جب آنکھ کھلی تو دن کے دس بج رہے تھے میں اٹھا ناشتہ کر کے عامل صاحب کی طرف چل پڑا جب وہاں پہنچا تو وہاں لوگوں کا بہت ہجوم تھا۔ میری باری آئی تو میں اندر چلا گیا اندر دیکھا کہ ایک نورانی چہرے والے بزرگ بیٹھے ہوئے تھے میں نے ان کو سلام کیا اور بیٹھ کر اپنی ساری تفصیل بتائیں عامل صاحب بولے بیٹا پہلے اس جن کو اسلام قبول کرنا ہوگا اور پھر تم میرے پاس آنا جاری ہے

Sharing is caring!

Comments are closed.