سپین میں میڈیکل عملے کو مفت سروس دینے والے پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورکی حالت تشویشناک ، افسوسناک اطلاعات موصول

بارسلونا (ویب ڈیسک) پاکستانی ڈرائیور سید شیراز جو کے بارسلونا میں میڈیکل عملے کو مفت سروس دی رہا تھا۔ اب انتہائی نگہداشت میں ہے اور اب زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں کرونا وائرس نے تباہی مچا دی تھی، کورونا نے اسپین کو بھی اپنی شدید لپیٹ میں لیے رکھا۔ کورونا وائرس سے جہاں دنیا بھرمیں ہلاکتیں ہو رہیں اور لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔

>

وہیں سپین بھی کرونا وائرس سے متاثر ہوا ۔کورونا وائرس کے پیش نظر سپین میں پاکستانی ٹیکسی سیکٹر نے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو فری سروسز فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق بارسلونا میں کورونا وائرس کے انسداد کے لیے لاک ڈاؤن میں سید شیراز نے پاکستانی ڈرائیورز کے گروپ کا روحِ رواں تھا۔ جو میڈیکل اسٹاف کو مفت سروس فراہم کرتا رہا مگر اب شیراز کورونا کا شکار ہے اور بارسلونا کے ایک اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج ہے۔گذشتہ روز انہوں نے فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ مجھے دس روز کے لیے بے ہوش کیا جا رہا ہے۔سپین میں مہلک کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ ہورہا ہے، ملک میں کورونا وائرس کے نئے کیسز کے بعد مریضوں کی تعداد 4 لاکھ 20 ہزار سے تجاوز کرگئی، ملک میں اب تک وائرس سے 28872 افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔سپین کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران سپین میں کورونا وائرس کی40 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس سے کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد420809 ہوگئی ہے۔ اس سے قبل جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سپین میں کورونا وائرس سے مجموعی طور پر متاثرہ افراد کی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار سے زائد تھی۔ سپین کی17 خود مختار علاقوں میں دارالحکومت میڈرڈ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ واضح رہے کہ شیراز نے جو قربانی سپین والواں کو دی ہے وہ بہت کم لوگ دے سکتے ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.