سو سال سے مدینہ کے ترکی ریلوے اسٹیشن پر کھڑا ریل کا انجن!یہ سو سال سے کیوں کھڑا ہے؟

آپ کے دورِ خلافت میں استنبول سے مدینہ شریف جانے کے لئے ٹرین سروس شروع کی گئی۔ آج بھی وہ ریلوے لائن مدینہ شریف میں بچھی ھوئی ھے۔ اور ترکی ریلوےاسٹیشن کے نام سے مشہور ھے، اُس زمانے میں ٹرین کا انجن کوئلہ کا ھوا کرتا تھا۔ مکمل تیاریاں ھونے کے بعد مدینہ شریف میں ترکی اسٹیشن پر سلطان عبدالحمید ثانی کو اوپنگ (افتتاح) کے لیے بلایا گیا۔

تو سلطان نے دیکھا کہ کوئلہ والا انجن بھڑ بھڑ آوازیں نکال رہا ھے، توسلطان عبدالحمید غضبناک ھوگئے۔ اور کچرا اٹھا کر انجنکو مارنا شروع کر دیا، اور کہا حضورؐ کے شہر میں اتنی تیز آواز تیری ادب گاہسیت زیر آسماں از عرش نازک ترنفس گم کردہ می آید جنیدؓ و بایزیدؓ اینجاتقریباؔؔ 100 سال کا عرصہ ھونے کو آیا،اس وقت جو انجن بند ھوا تھا۔ وہ آج بھی ایسے ھی مدینہ شریف میں رکھا ھوا ھے۔ جو ترکی اسٹیشن سے مشہور ھے،اس قدر ادب کہ وہ انجن کی بلند آواز کو بھی شہرِ رسولؐ میں پسند نہیں کرتے تھے، تو سوچووہ اپنے محبوب سے کس قدر محبت فرماتے ھوں گے یہ عشق تھا۔ یہ ادب تھا جو ان کے سینوں میں موجزن تھا، اللہ تعالی ہمیں بھی ایسا عشق و ادب اور شہر رسولؐ اللہ کی باادب حاضری نصیب کرے۔ امین ہم امید کرتے ہے کہ اج کی پوسٹ کو ضرور پسند آئی ہوگی مزید اچھی تحریر کے لیئے ہمارئے پیج کو ضرور لائک اور فالو کرئے۔ شکریہ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.