سونے کا پہاڑ

حضرت امام احمد بن حنبل ؒ ایک بار کسی بیا بان سے گزررہے تھے کہ آپ راستہ بھول گئے ، آپ نے بیا بان میں ایک شخص کو دیکھا کہ جو ایک گوشے میں بیٹھا ہوا تھا ۔ آپ نے سوچا کہ اس شخص سے راستہ دریافت کروں ۔ چنانچہ آپ اس کے پاس گئے ۔وہ حضرت امام کو دیکھ کر رونے لگا ۔
حضرت امام صاحب نے سوچا کہ شاید یہ بھوکا ہے آپ نے اس خیال سے اسے اپنے پاس سے کچھ روٹی دینا چاہی ۔ وہ شخص بہت خفا ہوا اور کہنے لگا ۔ اے احمد بنحنبل !تو کون ہے جو میرے اور خدا کے درمیان دخل دیتا ہے ۔ کیا تو خدا کے کاموں پر راضی نہیںہے؟ اس لیے تو راستہ بھی بھولتا ہے ۔
حضرت امام احمد اس کے کلام سے بڑے متاثر ہوئےاور دل میں کہنے لگے ۔ الہٰی ! دنیا میں تیرے ایسے ایسے بندے بھی پوشیدہ ہیں ۔ اس شخص نے کہا ۔ اے احمد حنبل کیا سوچتے ہو ۔ اس خدائے پاک کے ایسے ایسے بندے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کو قسم دے کر چاہیں تو تمام زمین اور پہاڑا ان کے واسطےسونے کے ہو جائیں ۔

حضرت امام احمد حنبل نے جو نظر کی تو تمام روئے زمین اور پہاڑ انہیں سونے کے نظر آنے لگے ۔ پھر آپ نے ایک آواز سنی کہ اے احمد ! یہ شخص ہمارا ایسا مقبول بندہ ہے کہ اگر چاہے تو ہم اس کی خاطرے زمین و آسمان کو الٹ پلٹ کر دیں ( تذکرہ الاولیا 262)
ایک دفعہ حضرت عیسٰی علیہ السلام بارش کی دعا مانگنے کے لئے نکلے۔ جب آپ علیہ السلام صحرا میں پہنچے تو اعلان فرمایا کہ میرے ساتھ ایسا شخص نہ آئے جس نے کوئی گناہ کیا ہو۔ یہ سن کر سوائے ایک شخص کے سب پلٹ گئے۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے اس سے پوچھا تم نے کوئی گناہ نہیں کیا؟
اس نے جواب دیا: حضور! مجھے اپنا کوئی گناہ یاد نہیں سوائے اس کے کہ ایک دن میں نماز پڑھ رہا تھا پاس سے ایک عورت گزری تو میں نے اُسے اِس آنکھ سے دیکھا، اس کے گزر جانے کے بعد ندامت مجھے پر غالب آئی اور میں نے انگلی سے وہ آنکھ نکال کر اُس عورت کے پیچھے پھینک دی یہ سن کر حضرت عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا تم اللہ عزوجل سے دعا کرو میں تمھاری دعا پر آمین کہوں گا۔

جب انہوں نے دعا مانگی تو آسمان پر بادل چھا گئے بارش برسنے لگی اور لوگ سیراب ہو گئے ۔(سبحان اللہ )(احیاء العلوم جلد اول)آج کے دور میں تو یہ حال ہو چکا ہے کہ ہم کسی کی ماں، بہن ، بیٹی پر بری نظر ڈالنے کو گناہ سمجھتے ہی نہیں۔اس وقت ایک لمحہ کے لئے بھی یہ نہیں سوچتے کہ ہماری بری نظر اللہ عزوجل کی ناراضگی کا باعث بان سکتی ہے۔
کسی کی ماں، بہن بیٹی پر بری نظر ڈالنے سے پہلے صرف اتنا سوچ لیا جائے کہ اگر یہی کام کوئی اور ہماری اپنی ماں بہن یا بیٹی کے لئے کرے گا تو ہمیں کیسا لگے گا

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *