سولر کا خوف ناک نقصان سامنے آگیا۔

اسلام آباد انسان اپنی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کے لیے جدید سے جدید تر ایجاداد میں لگا ہوا ہے۔ جس کے باعث انسان کی زندگی تو اسان ہو رہی ہے۔ مگر کچھ دنیاوی مخلوقات کی زندگی بہت بڑے خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اسی طرح ایک مسلئہ امریکی ریاست نیواڈا میں بھی پرندوں پر انسانی ترقی کی وجہ سے ایک ایسی آفت نازل ہوئی ہے۔کہ کی فضا میں پرواز کرتی ہوئی پرندے راکھ ہو رہی ہے ریاست میں قائم کریسنٹ ڈوم سولر انرجی پراجیکٹ کے وسیع و عریض علاقے کی فضاءمیں جو بھی پرندہ داخل ہوتا ہے اس کے جسم میں آگ بھڑک اٹھتی ہے اور وہ لمحوں میں جل کر کوئلہ بن جاتا ہے۔
نیواڈا بیورو آف لینڈ مینجمنٹ کے نمائندہ کا کہنا ہے کہ ایک دن میں 130تک پرندے جلتے دیکھے گئے ہیں اور اس کی وجہ زمین پر پھیلے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں وہ شیشے ہیں جو سورج کی روشنی کو منعکس کرتے ہیں۔ یہ شیشے ایک مرکزی پاور ٹاور پر روشنی منعکس کرتے ہیں۔ جہاں شدید حرارت سے پانی کو بھاپ میں تبدیل کرکے جنریٹر چلائے جاتے ہیں اور ان سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ پچھلے دنوں پراجیکٹ میں جاری کام کے دوران اہلکاروں نے کچھ شیشوں کا زاویہ آسمان کی طرف کردیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زمین سے تقریباً 1500فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے والے پرندے روشنی کی طاقتور شعاﺅں کی زد میں آکر جلنا شروع ہوگئے۔ جلنے والے پرندوں میں زیادہ تعداد کووں کی ہے۔ اگرچہ پراجیکٹ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شیشوں کا رخ تبدیل کردیا گیا ہے لیکن جانوروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی مقامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب بھی پرندے اس علاقے سے گزرتے ہوئے آگ پکڑ رہے ہیں۔یاد رہے کے سولر سورج کے کررنیں اپنی کہ کینچتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *