سوالات کے ذریعے آپ بھی معلوم کر سکتے ہیں

پاکستان
آپ کا دماغ زنانہ ہے یا مردانہ؟ان آسان سوالات کے ذریعے آپ بھی معلوم کر سکتے ہیں

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چند آسان طریقوں سے آپ معلوم کر سکتے ہیں کہ آپ کا دماغ مردانہ ہے یا زنانہ۔ایک لمحے کے لیے سکون سے بیٹھ جائیے اور اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈال کر مضبوطی سے پکڑئیے۔
اب معائنہ کیجئے کہ آپ کا کون سا انگوٹھا اوپر ہے؟ اگر آپ کے دماغ میں مردانہ پن غالب ہے تو آپ کا بائیں ہاتھ کا انگوٹھا اوپر ہو گا اور اگر زنانہ پن غالب ہے تو ممکنہ طور پر آپ کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا اوپر ہو گا۔ اب اپنے ہاتھوں کو کھولیے اور اپنی انگلیوں خاص طور پر شہادت کی انگلی اور چھنگلی کے ساتھ والی انگلی (رنگ فنگر) کو دیکھیے۔ آپ دیکھیں گے کہ عموماً مردوں میں چھنگلی کے ساتھ والی انگلی شہادت کی انگلی سے قدرے لمبی ہوتی ہے جبکہ خواتین میں عموماً دونوں انگلیوں کی لمبائی یکساں ہوتی ہے۔حیران کن طور پر آپ کے ہاتھ آپ کے دماغ کی جنس کو ظاہر کرتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے آپ کا دماغ آپ کی جنس کا عکاس ہوتا ہے۔عام مشاہدے کی بات ہے کہ مرد مخفی حقائق اور اشیاءمثلاً کاروں وغیرہ سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔دوسری طرف خواتین ذہنی ہم آہنگی اور دوسروں کے احساسات اور ضروریات کو سمجھنے اور پورا کرنے کی صلاحیت میں مردوں سے بہتر ثابت ہوئی ہیں۔مزید پڑھئیے ::تاریک مادے کی پہلی بار نقشہ بندی کی گئی ہے جس کے ذریعے روشنی اور کمیت کے رشتوں پر روشنی پڑ سکتی ہے .سائنس دانوں نے کائنات کے بڑے اسرار میں سے ایک ’تاریک مادے‘ (ڈارک میٹر) کی تلاش کے پہلے نتائج پیش کیے ہیں۔ تاریک مادہ کائنات میں موجود اس مادے کو کہا جاتا ہے کہ جس کا براہِ راست مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا، تاہم یہ کائنات میں نظر آنے والے مادے یعن کہکشاو¿ں، ستاروں اور کہکشاو¿ں کے درمیان موجود خلائی دھول پر کششِ ثقل کے ذریعے اثر ڈالتا ہے، اور اس نے ایک عرصے سے سائنس دانوں کوورطا حیرت میں ڈال رکھا ہے۔بین الاقوامی تعاون سے جاری ایک پروگرام ’ڈارک انرجی سروے‘ یعنی تاریک توانائی کی جانچ کرنے والی ٹیم نے جنوبی امریکی ساحل پر طویل ترین کوہستانی سلسلے اینڈیز میں ایک انتہائی طاقتور دوربین کا استعمال کر کے اس گریزاں مادے کا نقشہ تیار کیا ہے۔اس میں تاریک مادے کے بڑے بڑے حلقے نظر آئے ہیں جو کہکشاو¿ں میں جڑے ہوئے ہیں اور انھیں ان کے درمیان موجود خلا علیحدہ کرتے ہیں۔ابھی تک سائنس دان دور دراز کی کہکشاو¿ں سے آنے والی روشنیوں میں خلل کو ناپ کر اس کے وجود کے بارے میں معلومات رکھتے تھے۔اس تحقیق کے ذریعے سائنس دان تاریک توانائی کا تعین کرنا چاہتے ہیں جو کہ ایک ایسی قوت ہے جو ہمہ وقت تیز تر ہوتی ہوئی رفتار سے کائنات کو پھیلا رہی ہے۔ابھی تک تاریک مادے کا مشاہدہ بالواسطہ طور پر ہی کیا جاتا تھا ییل یونیورسٹی میں فلکیاتی طبیعیات کی پروفیسر پریا نٹراجن اس تحقیق میں شامل نہیں ہیں، تاہم انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تاریک مادے کے بارے میں بتایا:’تاریک مادے کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کسی بھی ویو لنتھ پر مرتعش نہیں ہوتا، اس لیے ہم اسے نہیں دیکھ سکتے۔ ہم اس کا صرف بالواسطہ طور پر کشش ثقل کے ذریعے مشاہدہ کرتے ہیں لیکن ہم یہ نہیں جانتے کیا آیا تاریک مادہ کششِ ثقل فراہم کرتا ہے جس سے ستارے اور کہکشائیں بنتی ہیں۔‘انھوں نے مزید کہا: ’اس لیے ہم کائنات میں کمیت اور روشنی کے رشتے کو نہیں جانتے اور یہ ابھی تک ایک پہیلی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے کس قدر تعلق رکھتے ہیں۔

Sharing is caring!

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *