سفید بالوں کو قدرتی طور پر کالا کرنے کے ایسے آسان ٹوٹکے جو آپ کے اپنے باورچی خانے میں موجود ہیں

سر کے بالوں کا سفید ہونا عمر رسیدہ ہونے سے تعبیر کیا جاتا ہے مگر بالوں کی سفیدی کی وجہ ہمیشہ عمر نہیں ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات صحت کے کچھ مسائل کے سبب بھی عمر سے قبل ہی بال سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں – سر کے بالوں کے جلدی سفید ہونے کی وجہ عمر سے قبل بالوں کے سفید ہونے کی وجوہات کچھ اس طرح سے ہیں

>

• دائمی نزلہ زکام

• ٹائفائيڈ یا معیادی بخار

• ہارمون کے نظام میں خرابی خاص طور پر تھائی رائيڈ اور پچیوٹری گلینڈ میں خرابی

• جسم میں فولاد ، آيئيوڈين اور دیگر معدنیات اور وٹامن کی کمی

سر کے سفید بالوں کو کالا کرنے کے گھریلو طریقے

1: مہندی اور کافی کا استعمال

مہندی بالوں کے لیے ایک بہترین کنڈیشنر ثابت ہوتی ہے اور اس کا استعمال بالوں کو رنگنے کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے مگر اس کی سرخی ہر انسان پسند نہیں کرتا ہے- اس وجہ سے ایک کپ کافی بنا کر اس میں مہندی بھگو دی جائے تو اس کو بالوں پر لگانے سے بالوں کی رنگت قدرتی سیاہ ہو جاتی ہے جو کہ بالوں کو مصنوعی رنگوں کی طرح نقصان بھی نہیں پہنچاتا ہے اور ان کے لیے مفید بھی ہوتا ہے-

2: ریٹھے اور شکاکائی

دس سے بارہ ریٹھے اور تین سے چار شکاکائی کو ایک گلاس پانی میں رات بھر بھگو لیں اور صبح اس کو ایک جوش دے دیں اس کے بعد چھان کر محلول کو بطور شیمپو استعمال کریں اس سے بھی بال قدرتی طور پر سفید سے سیاہ ہو جائيں گے اور لمبے اور گھنے بھی ہو جائيں گے-

3: لیموں اور کیسٹر آئل

لیموں کے رس اور کیسٹر آئل کو ہم وزن لے لیں اور اس سے سر کے بالوں کا اچھی طرح مساج کریں اور اس کے بعد ریٹھے اور شکاکائی کے محلول کو بطور شیمپو استعمال کرتے ہوۓ سر دھو لیں کچھ ہی دنوں میں بالوں کی قدرتی رنگت لوٹ آئے گی-

4: چائے کی پتی اور نمک

ایک کپ پانی میں دو چمچ چائے کی پتی کو اچھی طرح ابال لیں اور اس میں ایک چمچ نمک شامل کر لیں ٹھنڈا ہونے پر اس کا بالوں پر اچھی طرح مساج کر لیں اس کے بعد سادہ پانی سے دھو لیں اس سے بھی بالوں کا رنگ تبدیل ہو جاتا ہے-

5: آملہ کا استعمال

دس سے بارہ آملہ ایک کپ پانی میں رات بھر بھگو دیں اور صبح چھان لیں اور اس محلول کو شیمپو کرنے کے بعد گیلے بالوں پر ہلکے ہاتھوں سے مساج کریں اور اس کے دس منٹ بعد سادہ پانی سے دھو لیں کچھ ہی دنوں میں سفید بال قدرتی طور پر سیاہ ہو جائيں گے-

Sharing is caring!

Comments are closed.