سستی گاڑیاں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) آج کل گاڑیاں بہت مہنگی ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے مڈل مین بہت متاثر ہوا ہے اس لئے سب سستی گاڑیوں کی تلاش میں ہیں۔ پاکستان میں اس وقت کو ئی بھی مینوفیکچرنگ کمپنی نہیں‌ہے جو کہ گاڑیاں بناتی ہو بلکہ تمام کمپنیاں‌جو یہاں‌موجود ہے وہ صرف اسمبلنگ کرتی ہے۔

>

یعنی باہر سے تمام حصوں‌کو برآمد کرکے یہاں‌ان کو جوڑا جاتا ہے . اس کی وجہ سے پاکستان میں کچھ کمپنیوں کی اجارہ داری ہے . جو کہ نہایت بے کار گاڑیوں کو انتہائی مہنگے داموں بیھجتی ہے اور ا س کے ساتھ پاکستان میں‌ٹیکس کا نظام اتنا عجیب ہے کہ اگر کوئی گاڑی درآمد کرتا ہے تو کل قیمت سے زیادہ ٹیکس دینا پڑتا ہے اس کی وجہ سے عام لوگ مقامی طور پر تیار ہونے والی ناقص گاڑیوں کے استعمال پر مجبور ہے لیکن آج ہم آپ کو کچھ ایسی گاڑیوں‌کے بارے میں‌بتائیں‌گے جو کہ قیمت میں‌مہران سے کم اور کارکردگی میں بہت اعلی ہے .چیری کیو کیو:چیری کیو کیو شیورلیٹ جوائے کی چائینہ کاپی ہے اور دکھنے میں بھی ایک جیسی ہیں۔ 800 سی سی یہ گاڑی دو ماڈلز کمفرٹ اور سٹینڈرد کے نام سے مارکیٹ میں لائی گئیں ہیں۔بہترین فیچرز سے لیس یہ گاڑی تین سے چار لاکھ میں استعمال شدہ حالت میں آ پ کا کسی بھی آن لائن ویب سائٹ یا مارکیٹ میں مل جائے گی۔ شیورلیٹ جوائے:زبردست فیچرز اور بناوٹ کے باوجود شیورلیٹ جوائے پاکستانی آٹو مارکیٹ میں اپنی جگہ نہیں بنا سکی۔ اس گاڑی میں پاور ونڈو، پاور شیشے، پاور سٹئیرنگ جیسی سہولیات متعارف کروائی گئیں ہیں۔

جبکہ استعمال شدہ حالت میں یہ گاڑی ساڑھے تین لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ کی قیمت میں بہتر حالت میں مل جاتی ہے۔ مارکیٹ میں موجود اس رینج میں دستیاب عام آپشنز کے بدلے اس گاڑی کا انتخاب آپ کے لئے بہتر رہے گا۔ کورے:ڈائی ہٹسو کورے ایک چھوٹی لیکن پائیداری کے حساب سے ایک بہترین گاڑی ہے۔ یہ گاڑی ااستعمال شدہ حالت میں آٹومیٹک اور مینویل گئیرز کے ساتھ مارکیٹ میں مل جاتی ہے۔ 1000 سی سی انجن والی یہ 2008 ماڈل تک کی یہ گاڑی پانچ لاکھ سے نیچے کی قیمت میں خریدی جاسکتی ہے۔ سوزوکی بولان:سوزوکی بولان یا کیری ڈبہ کئی سالوں سے پاکستانی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنائے ہوئے ہے۔ بولان کو بطور فیملی گاڑی، سکول اور کالج کے لئے بطور پک اینڈ ڈراپ وین اور کمرشل کاموں کیلئے زیادہ تر استعمال کیا جاتا ہے۔ 2008 سے 2012 تک کا ماڈل مارکیٹ میں 5 لاکھ تک دستیاب ہے۔ہنڈائی سینٹرو:1000 سی سی ہنڈائی سینٹرو کی پروڈکشن ملک میں بہت پہلے رک چکی ہے لیکن یہ گاڑی مضبوطی اور بہترین فیچرز کی وجہ سے استعمال شدہ گاڑیوں کے خریداروں کیلئے اب بھی ایک بہترین چوائس ہے۔ یہ گاڑی کلب، پلس اور ایکزیکٹیو ماڈلز میں دستیاب ہیں جن کے فیچرز ایک دوسرے سے تھوڑے بہت مختلف ہیں۔استعمال شدہ سینٹرو گاڑی ساڑھے چار لاکھ سے پانچ لاکھ کے درمیان آسانی سے مل جاتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.