’سب کچھ بالکل مفت ‘‘

ہمارے محلے کے حاجی صاحب ایک مالش کرنے والے سے مالش کروا رہے تھے. اتنے میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کیا حال ہے حاجی صاحب نظر نہیں آتے آج کل. حاجی صاحب نے اسکی بات سنی ان سنی کر دی.وہ بندہ کہنے لگا حاجی صاحب آپکی یہ سائیکل لے کے جا رہا ہوں. وہ سائیکل مالشی کی تھی. جب کافی دیر ہو گئی تو مالشی کہتا کے آپکا دوست آیا نہیں سائیکل لے کے.حاجی صاحب : وہ میرا دوست نہیں تھا.مالشی: مگر وہ تو آپ سے باتیں کر رہا تھا.حاجی:

>

میں تو جانتا ہی نہیں اسے. میں سمجھا تمہارا دوست ہے.مالشی: میں غریب آدمی ہوں میں تو لوٹ گیا.حاجی: اچھا رو نا میں نیو سائیکل لے دیتا ہوں. سائیکل والی شاپ پے جا کے کہا کے پسند کر لو.مالشی نے ایک سائیکل پسند کی اور چکر لگا کے دیکھا مگر وہ سائیکل ایک سائیڈ کو مڑ جاتا تھا. حاجی نے کہا نیو سائیکل ہے، یہ ٹھیک ہے. دیکھا ئو میں چیک کرتا ہوں. حاجی صاحب سائیکل پے چکر لگانے گئے اور آئے ہی نہیں. مالشی کو ایک اور سائیکل کے پیسے دینے پڑ گئے. بس ایسا ہی حال پاکستانی قوم کا ہورہا ہے ہر نیا آنے والا حاجی صاحب کی طرح کرہا ہے اور پاکستانی قوم مالشیے کیطرح ہے

Sharing is caring!

Comments are closed.