ساؤتھ ایشیا کے سارے ملکو ں کو وارننگ دیتا ہوں کہ اس کو کوئی عام چھوٹا سا، معمولی سا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) میں پرسوں ایک پروگرام میں نامور ادیب و دانشور اشفاق احمدمرحوم پروگرام زاویہ سن رہا تھا۔ جس میں وہ پاکستان کے معجزہ نہ قیام کے بارے میں ایک واقعہ سنا رہے تھے۔ جس کو سنتے ہی میرے جیسا پے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہ ایک واقعہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے اسلام آباد میں جانے کا اتفاق ہوا۔اسے شادی میں کیسی نے مجھے پیغام دیا کہ ایک روحانی بابا جی آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں ان کے پاس گیا اور جیسے ہی میں ان کے پاس پہنچا اور انہوں نے مجھے دیکھتی کہا

>

کہ تم آگئے ہو تو سنو ” تم اپنے پروگرام میں بڑے قصے کہانیاں سناتے رہتے ہو، میں تمہیں خبردار کرتا ہوں، میں نے تمہیں وارننگ دینے کیلئے بلا یا ہے۔ تم لوگ بہت لا پرواہ ہو چکے ہو اور تم نے توجہ دینا چھوڑدی ہے۔تم ایک خطرناک اور خوفناک منزل کی طرف رجوع کررہے ہو۔ دیکھو! میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں، یہ پاکستان ایک معجزہ تھا جتنا بڑا قوم ثمود کیلئے اونٹنی کے پیدا ہونے کا تھا۔اگر تم پاکستان کو حضرت صالح علیہ سلام کی اونٹنی سمجھنا چھوڑ دو گے، نہ تم رہو گے، نہ تمہاری یادیں رہیں گی۔بابا جی میرےگلے میں موجو د صافے کو پکڑ کر کھینچ رہے تھے۔آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ میری کیا کیفیت ہو گی، پسینے چھوٹ گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ تم نے حضرت صالح کی اونٹنی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ اٹھاون برس گزر گئے، تم نے اس کے ساتھ وہی رویہ اختیا ر کیا ہو اہے جو قوم ثمود نے کیا تھا اندر کے رہنے والوں اور باہر کے رہنے والے، دونوں کو میں تنبیہ کررہا ہوں، تم سنبھل جاؤ ورنہ وقت بہت کم ہے۔اس اونٹنی سے جو تم نے چھینا ہے اور جو کچھ لوٹا ہے، اندر کے رہنے والوں اس کو لوٹا دو اور اس کو واپس کردو۔

اور با ہر کے رہنے والو، ساؤتھ ایشیا کے سارے ملکو ں کو وارننگ دیتا ہوں کہ اس کو کوئی عام چھوٹا سا، معمولی سا جغرافیا ئی ملک سمجھنا چھوڑ دو۔ یہ حضرت صالح علیہ سلا م کی اونٹنی ہے۔ہم سب پر اس کا ادب اور احترام واجب ہے۔ اسکے ساتھ ہونے والی کوتاہیوں کی معافی مانگتے رہو۔ اشفاق احمد صاحب کہتے ہیں کہ میں ان کی کسی بات کا کوئی جواب نہ دے سکا، اور خوف ذدہ ہو کر کھڑا رہا،پھر انکو سلام کرکے سرجھکا ئے واپس چلا آیا اور دیر تک پسینہ صاف کرتا رہا۔پاکستان بلا شبہ حضرت صالح علیہ سلام کی اونٹنی ہے اور ہماری قوم کا حشر بھی قوم ثمود سے مختلف نہیں ہوگا۔ میں نے جب زاویہ میں یہ واقع پڑھا تو میرے بھی رونگٹے کھڑے ہوگئے پاکستا ن کو حضرت صالح کی اونٹنی سمجھتے ہوئے ہر پاکستانی کو وطنِ عزیز سے پیار کرنا چاہیے اور ملک بھر میں جگہ جگہ اس کی تشہیر کرنی چاہیے۔ بچوں کے کور س میں شامل کرنا چاہیے تا کہ بیس کروڑ پاکستانی عوام میں سے ایک بھی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ تجھے تو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ پاکستا ن کا قیا م ایک معجزہ ہے اور یہ حضر ت صالح علیہ سلام کی اونٹنی کے مترادف ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں واحد پاکستان ایک مضبوط اسلامی قعلے کے طور پر کفار کے سامنے کھڑا ہے۔ ہمیں اللہ کا شکر گزار رہنا چاہیے کہ ہم ایک آزاد اسلامی ریاست میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہاں یہ ایک بالگ بات ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی کمزور اور غلط پالیسیوں کی وجہ عزت والا نام کمانا سکا۔ لیکن بہت جلد ہی شاءاللہ یہ دنیا کے سامنے ایک سپر پاور کے طور پر نمودار ہو گا۔ اور دنیا بھر میں یہاں سے اسلام کا بول بالا ہو گا انشاء اللہ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.