زندگی کا فلسفہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے گڑھے میں جا گرا اور زور زور سے اوازے نکالنےلگا۔ گھوڑے کا مالک کسان تھا۔ جو کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا جب اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے۔

وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا، چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں، اور گڑھے کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا، اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں۔ یہ سوچ کر اس نے اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور گڑھا بند کرنا شروع کر دیا۔ سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھا جس سے وہ مٹی، بجری اور کوڑا کرکٹ گڑھےمیں ڈال رہے تھے۔ گھوڑا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا۔ اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا۔ جب کسان نے جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جب جب گھوڑے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا ہے تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا ہے اور پھر گری ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا اور گھوڑا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے اوپر تک پہنچ گیا اور باہر نکل آیا۔ یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں آ گئے۔ زندگی میں ہمارے ساتھ بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ ہمارے اوپر کچرا اچھالا جائے۔ ہماری کردار کشی کی جائے۔ ہمارے دامن کو داغدار کیا جائے۔ ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے۔ لیکن گندگی کے اس گڑھے سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان غلاظتوں کی تہہ میں دفن ہو کر رہ جائیں۔ بلکہ ہمیں بھی ان بے کار کی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اوپر کی طرف اور آگے کی سمت بڑھتے رہنا چاہیے زندگی میں ہمیں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں وہ پتھروں کی طرح ہوتی ہیں مگر یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ آیا ہم ہار مان کر ان کے نیچے دب جائیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.