رکشے سے ایک لڑکی اتری، پل سے نیچے دیکھا اور واپس چلی گئی، اگلی صبح میں نے کیا دیکھاکہ۔۔۔؟ 47 سال سے دریائے راوی پر تعینات اللہ دتہ نےحیران کن واقعات بیان کر دیے

بریکنگ نیوز: احتساب کا سونامی بپھر گیا ۔۔۔۔ صبح صبح نامور پاکستانی سیاستدان کے بیٹوں کی گرفتاری کی خبر

آجائیں اور حکومت سنبھالیں۔۔!! سیاسی بحران پیدا ہوتے ہی اسٹیبشلمنٹ نواز شریف کو کیا آفر کرنے والی ہے؟ عمران خان کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گ
عام تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ، نوٹیفیکیشن جاری
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) دریائے راوی ایسا دریا جہاں کئی لوگ ڈوب کر جان کی بازی ہار چکے ہیں مگر یہاں ایک ایسا شخص بھی ہے جو 47سال سے دریائے راوی میں ڈوبنے والوں کو بچاتا رہا، اس شخص کا نام اللہ دتہ ہے۔ اللہ دتہ کے مطابق اس نے اب تک دریائے راوی سے دو ہزار سے زائد جسد نکالیں اور 800افراد کو بچایا ہے۔

اللہ دتہ یہاں لوگوں کی جان بچانے کیلئےمحکمہ سول ڈیفنس کی جانب سے غوطہ خور کے طور پر تعینات ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں اللہ دتہ نے بتایا کہ اس دریا میں تیرتے ہوئے بھی لوگ ڈوبتے ہیں اور خود کو مووت کے حوالے کرنے والے لوگ بھی آتے ہیں، یہاں نہانے کیلئے آنیوالے لوگ ڈوب جاتے ہیں کیونکہ انہیں دریا کی گہرائی کا اندازہ نہیں ہوتا۔ اللہ دتہ نے بتایا کہ جو لوگ بچ جاتے ہیں ان کے فون نمبر اور گھر کا پتہ ہم لے لیتے ہیں اور جو لوگ بچ نہیں پاتے ان کی نعشیں نکالنے کے بعد ہم اس کی تصویرلے لیتے ہیں۔ وہ میں اپنے پاس رکھ لیتا ہوں اور میرے پاس ایک سال کا ریکارڈ ہوتا ہے۔جو لوگ یہاں نہانے لے لیے آتے ہیں انھیں میں وہی تصویریں دکھاتا ہوں کہ پانی میں ڈوب کر مرنے والے کا یہ حال ہوتا ہے جس وجہ سے پھر وہ نہانے سے باز آ جاتے ہیں اس لیے میری جیب میں ہمیشہ تصویریں موجود ہوتی ہیں۔بہت سارے واقعات ہوتے ہیں جو اکثر مجھے یاد بھی نہیں رہتے۔ مگر کچھ ذہن میں رہ جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک لڑکی آئی تھی۔ پل کے اوپر اور نیچے دیکھتی رہی اور پھر رکشے میں بیٹھ کر چلی گئی۔ پھر رات کو اس نے دوبارہ آ کر چھلانگ مار دی تھی۔ اگلی صبح تھوڑی دور ہی اس کی نعش پڑی تھی۔کئی مرتبہ ایسے بھی ہوا ہے کہ لوگ ہاتھا پائی پر اتر آتے ہیں کہ،میری جان کیوں بچائی، مجھے مرنےدو لیکن میں انھیں مرنے نہیں دیتا۔ جب تک میری زندگی ہے، میں یہی کام کروں گا۔

Share

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *